خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 515

۵۱۵ پھر بعض دفعہ زمیندار مقدموں میں بہت سا روپیہ لگاتے ہیں۔اور نقصان اُٹھاتے ہیں بعض دفعہ لوگ شوقیہ بھی مقدمہ بازی کرتے ہیں حضرت خلیفہ اول نے سنایا کہ ایک دفعہ ایک زمیندار کو آٹھ سوروپیہ بیچ گیا۔اس نے دوستوں سے مشورہ لیا کہ کیا کرنا چاہیئے۔انھوں نے مشورہ دیا کہ تم اس سے اور زمین خریدیو اس نے کہا کہ اس دفعہ تو مقدمہ کرنے کو دل چاہتا ہے۔بتاؤ گاؤں میں کون ایسا ہے جس پر مقدمہ کریں۔تو بعض دفعہ لوگ شوق سے مقدمہ کرتے ہیں۔اور بعض دفعہ مجبوریاں ہوتی ہیں۔اور اس وقت ایک چیز کے بچانے کے لیے بہت سی چیزوں کا نقصان کرنا پڑتا ہے۔تو فساد مکوں ہی کا نہیں۔افراد کا بھی بڑا ہوتا ہے لیکن بہت لوگ ہوتے ہیں۔جو فسادات پیدا کرتے ہیں۔حالانکہ فساد ایسی بری چیز ہوتی ہے کہ اس سے انسان دین ودنیا دونوں میں ترقی نہیں کر سکتا۔لوگ فساد کے باعث علوم سے محروم ہو جاتے ہیں۔کیونکہ بچے بوجہ مخالفت کے گھر سے نہیں نکل سکتے خیال ہوتا ہے کہ اگر گھر سے نکلیں تو دشمن کہیں ان کی جان نہ لے لے۔دین سے بھی محروم ہو جاتے ہیں مثلا نماز پڑھنا چھوڑ دیگے کیوں ؟ اس لیے کہ فلاں امام سے پرخاش ہے۔یا امام سے تو نہیں۔مگر امام ان کے دشمن کا دوست ہے یا انکا من بھی مسجد میں آتا ہے۔اس طرح اپنی فیمنیوں کا اثر دین پر ڈال دیتے ہیں۔اور انسانوں سے ناراض ہو کر خدا سے ناراض ہو جاتے ہیں۔پھر فساد کا ایک اور نتیجہ ہوا کرتا ہے کہ وہ کام جو ملکر ہوا کرتے ہیں۔مثلاً انجمنیں وغیرہ وہ باطل ہو جاتی ہیں۔بلکہ یہاں تک ہوتا ہے کہ دشمن کو نقصان پہنچانے کے لیے بعض لوگ اپنا ہی نقصان کر لیا کرتے ہیں مثلاً اپنے بچہ کو قتل کرتے ہیں۔اور لاش کو دشمن کے گھروں میں ڈال دیتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے ہمارے بچہ کو قتل کر دیا۔اور اسی طرح بعض لوگ صداقت کو دشمنی کے باعث نہیں قبول کرتے حضرت صاحب کے وقت میں ایک معزز سرکاری افسر نے حضرت صاحب کو کہلا بھیجا کہ اگر آپ فلاں شخص کو جماعت سے نکال دیں۔تومیں آپ کی بیعت کر لوں۔اس کے جواب میں ہمیشہ حضرت صاحب یہ فرمایا کرتے تھے کہ میں اس کی خاطر جو صداقت کے حلقے میں نہیں آیا کیسے اس شخص کو صداقت کے حلقے سے نکال سکتا ہوں میں کو خدا اس حلقے میں لے آیا ہے اور واقعہ میں جو شخص صداقت سے اب تک الگ ہے۔اس کی خاطر کیسے اس شخص کو الگ کیا جاسکتا ہے جس کو خدا اس کی کسی نیکی کے باعث حق کی طرف سے آیا ہے۔یہ کچا عذر ہوتا ہے کہ فلاں کو نکال دو تو ہم مانیں گے کیا اگر یہ سلسلہ سچا ہے تو اس شخص کے اس میں ہونے سے یہ جھوٹا ہو جائے گا۔اگر یہ سچا ہے۔تب تو ہر حال سچا ہے اور اگر سچا نہیں تو ہر حال سچا نہیں۔پس چونکہ ملکوں کی لڑائی کی طرح ہی افراد کی لڑائی بھی مضر ہوتی ہے۔اس لیے شریعت اسلام نے