خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 512

۵۱۲ پھول تو اپنی بہار دلفزا دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے پہلوں پر افسوس کیا جاتا ہے کہ انھوں نے ہاتھ ڈھیلے کر دیتے اور اسلام ان سے چھن گیا بگوئیں کہتا ہوں کہ وہ تو ہزار سال تک اسلام کو لیے رہے ہیں ہمیں تو ابھی پچاس سال بھی نہیں ہوتے ۔ ہیں پس ہمیں ہوشیار رہنا چاہیتے اور پہلوں کی جن کمزوریوں کا ہمیں علم ہے وہ تو اپنے اندر نہ پیدا ہونے دینی چاہئیں ۔ حالانکہ داتا وہ ہوتا ہے۔ جو ان سوراخوں کو بھی بند کرنے کی کوشش کرتا ہے جن سے اُسے نقصان نہیں پہنچا ہوتا ۔ پس ضروری ہے کہ اپنی فکر کے ساتھ ہمسایہ کی بھی فکر کرو اور شہر کی فکر کرو۔ ملک کی فکر کرو اور ساری دنیا کی فکر کرو۔ اگر کوئی نماز میں سست ہے تو اس کو چست کرو۔ زکوۃ نہیں دیتا تو اس کو دینے کے لیے کہو۔ حج ذی استطاعت ہو کر نہیں کرتا ۔ تو اس کو حج کرنے کے لیے تحریک کرو کیسی میں اخلاق کی کمزوری ہے۔ وہ دور کر کسی میں غیبت کا مرض ہے ۔ اس کو دور کرو۔ کوئی دینی احکام سے کی نافرمانی اور منہی کرتا ہے۔ اس کو روکو۔ ان سب باتوں کی نگرانی ضروری ہے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ وہ ایمان اور اخلاص جو حضرت صاحب پیدا کرنا چاہتے تھے وہ ہمارے نوجوانوں وں وہ اور جو میں نہیں۔ اکثر نوجوانوں سے اگر کسی کام کے لیے کہا جائے تو کہا جاتا ہے۔ پیسہ لاؤ مگر اکثر بوڑھوں ہے۔ میں یہ بات نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ معمر لوگوں نے اپنے آپ کو نو جوانوں سے علیحدہ کر لیا۔ اور انہیں ہے ان کی غلطیوں سے آگاہ نہ کیا ۔ یہ ان سے غلطی ہوئی ۔ چاہتے یہ کہ وہ لوگ جو قربانی اور ایثار کی روح اپنے سے جو قربان اور را اندر رکھتے ہیں۔ شریعت کے احکام پر پوری پابندی کے ساتھ چلتے ہیں۔ وہ نوجوانوں سے ملیں اور ان کو اپنے ساتھ ملنے کی تحریک کریں۔ تاکہ ان نوجوانوں میں بھی وہ روح پیدا ہو جس کی ہمیں ضرورت ہے ۔ ورنہ اگر وہ اسی طرح علیحدہ رہے تو اندیشہ ہے کہ ان کے بعد ان کی اولاد میں خدا کی محبت نہ رہے گی۔ یہ بھی ایک بہت افسوسناک بات ہوگی مگر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اولاد سے زیادہ خدا کی محبت کرنے والے دنیا میں نہ رہیں گئے ۔ ہماری خوشی تو اس میں ہونی چاہیئے کہ خدا سے محبت کرنے والے دنیا میں بڑھیں۔ اور اس کے دین اور شعائر کے پابند زیادہ ہوں ۔ جس طرح خدا غیر فانی ہے ۔ اس کے ساتھ محبت کرنے والے بھی غیر فانی ہونے چاہئیں ۔ پس اپنے آپ پر خدا کی محبت کو ختم نہ کرو کہ تمہارے آنکھیں بند کرتے ہی تمہارے گھر میں خدا کا نام لینے والا کوئی نہ رہے۔ بلکہ یہ ہو کہ جب ہم مریں تو ہماری اولا دیں اس بات کو قائم رکھیں۔ پھر ان کی اولا دیں پھر ان کی اولا دیں۔ پھر