خطبات محمود (جلد 6) — Page 512
۵۱۲ پُھول تو اپنی بہار دلفزا دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے پہلوں پر افسوس کیا جاتا ہے کہ انھوں نے ہاتھ ڈھیلے کر دیتے اور اسلام اُن سے چھین گیا اگر میں کہتا ہوں کہ وہ تو ہزار سال تک اسلام کو لیے رہے ہیں ہمیں تو ابھی پچاس سال بھی نہیں ہوتے۔پس ہمیں ہوشیار رہنا چاہیتے اور سیلوں کی جن کمزوریوں کا ہمیں علم ہے وہ تو اپنے اندر نہ پیدا ہونے دینی چاہئیں۔حالانکہ داتا وہ ہوتا ہے جو ان سوراخوں کو بھی بند کرنے کی کوشش کرتا ہے جن سے اُسے نقصان نہیں پہنچا ہوتا۔پس ضروری ہے کہ اپنی فکر کے ساتھ ہمسایہ کی بھی فکر کرو اور شہر کی فکر کرو۔ملک کی فکر کرو اور ساری دنیا کی فکر کرو۔اگر کوئی نماز میں شکست ہے تو اس کو چست کرور زکوۃ نہیں دیتا تو اس کو دینے کے لیے کہو۔حج ذی استطاعت ہو کر نہیں کرتا۔تو اس کو حج کرنے کے لیے تحریک تحرو کسی میں اخلاق کی کمزوری ہے۔وہ دُور کرد کسی میں غیبت کا مرض ہے۔اس کو دور کرو۔کوئی دینی احکام کی نافرمانی اور ہنسی کرتا ہے۔اس کو روکو۔ان سب باتوں کی نگرانی ضروری ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ ایمان اور اخلاص جو حضرت صاحب پیدا کرنا چاہتے تھے وہ ہمارے نوجوانوں میں نہیں۔اکثر نوجوانوں سے اگر کسی کام کے لیے کہا جائے تو کہا جاتا ہے۔پیر لاؤ مگر اکثر بوڑھوں میں یہ بات نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ معمر لوگوں نے اپنے آپ کو نو جوانوں سے علیحدہ کر لیا اور انہیں ان کی غلطیوں سے آگاہ نہ کیا۔یہ ان سے غلطی ہوئی۔چاہتے یہ کہ وہ لوگ جو قربانی اور ایثار کی روح اپنے اندر رکھتے ہیں۔شریعت کے احکام پر پوری پابندی کے ساتھ چلتے ہیں۔وہ نوجوانوں سے میں اور ان کو اپنے ساتھ ملنے کی تحریک کریں۔تاکہ ان نوجوانوں میں بھی وہ روح پیدا ہو جس کی ہمیں ضرورت ہے۔ورنہ اگر وہ اسی طرح علیحدہ رہے تو اندیشہ ہے کہ ان کے بعد ان کی اولاد میں خدا کی محبت نہ رہے گی۔یہ بھی ایک بہت افسوسناک بات ہو گی مگر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ اولاد سے زیادہ خدا کی محبت کرنے والے دنیا میں نہ رہیں گئے۔ہماری خوشی تو اس میں ہونی چاہیئے کہ خدا سے محبت کرنے والے دنیا میں بڑھیں۔اور اس کے دین اور شعائر کے پابند زیادہ ہوں جس طرح خدا غیر فانی ہے۔اس کے ساتھ محبت کرنے والے بھی غیر فانی ہونے چاہئیں۔پس اپنے آپ پر خدا کی محبت کو ختم نہ کرو کہ تمہارے آنکھیں بند کرتے ہی تمہارے گھر میں خدا کا نام لینے والا کوئی نہ رہے بلکہ یہ ہوکہ جب ہم مریں تو ہماری اولادیں اس بات کو قائم رکھیں۔پھر ان کی اولادیں پھران کی اولادیں۔پھر