خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 506

۵۰۶ خاص حکم ہے جو اسلام نے دیا ہے اور جس کے متعلق رسول کریم نے تاکید فرماتی ہے۔ صحابہ اس کے اس قدر پابند تھے کہ ایک دن عبداللہ ایک صحابی کے پاس آئے اور کہا آؤ ۔ بازار چلیں۔ صحابی نے سمجھا کوئی کام ہوگا ۔ چل پڑا ، لیکن وہ بازار میں سے گھوم کر یونی چلے آئے نہ کوئی کام کیا اور نہ کوئی چیز خریدی۔ دو تین دن کے بعد پھر آئے اور کہا آو بازار چلیں ۔ اس صحابی نے کہا۔ اس دن آپ نے کچھ خریدا اور نہ کام کیا ۔ آج کوئی کام ہے ۔ انہوں نے کہا میں بازار اس لیے جاتا ہوں کہ بھائی ملتے یں ہم کوسم کے یہ کام کے اب بازار میں اسلام با ہیں۔ وہ ہم کو سلام کہتے ہیں ہم ان کو سلام کہتے ہیں ۔ تو صحابہ بازاروں میں صرف سلام کہنے کے لیے بھی جاتے تھے تمہیں بھی چاہیئے کہ بازاروں میں محلوں میں مجلسوں میں گھروں میں جہاں کسی سے طو سلام کہو۔ کو جانے والوں کو سلام کو۔ نہ جانے والوں کو سلام ہو۔ اگر دیا کوئی چیز ہے اور مسلمان مانتا ہے کہ بہت بڑی چیز ہے اور اسلام کے رکنوں میں سے ایک رکن ہے۔ اور سلام اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ تو سب اولیا۔ اور خدا کے پیاروں کا یہ بھی متفقہ مسئلہ ہے۔ اگر کوئی دعا زیادہ قبول ہونے والی ہوتی ہے تو وہی ہوتی ہے۔ جو خدا تعالیٰ کی سکھائی ہوتی ہو۔ اور وہ یہی دعا ہے پھر کیسا نادان ہے وہ انسان جو سجدہ میں ناک رگڑتا اور دعائیں کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالی کی بتائی ہوئی اس دعا کو استعمال نہیں کرتا۔ جو شخص خدا تعالیٰ کی سکھائی ہوئی دعا کو نہیں لیتا۔ خدا تعالیٰ اس کی سجدہ میں کی ہوتی دکھا کو کب سنتا ہے۔ پہلے خدا کی سکھائی دعا کو رستوں میں گھروں میں ملنے والوں سے جدا ہونے والوں سے اپنوں سے بیگانوں سے واقفوں سے ۔ نا واقفوں سے کر لیا۔ اور پھر جاکر خدا تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو لینے گا کہ میں نے میں دُعا کا حکم دیا تھا وہ کر آیا ہے ۔ اب میں اس کی دعا سنوں پھر اس کے محبت اور اتفاق کے لیے بہت اثمرات ہیں۔ اور اگر ضرورت ہوئی ۔ تو ان کو پھر بیان دوں گا۔ الفضل ، اکتوبر ۱۹ته ) کر له مشكوة كتاب الاداب باب السلام