خطبات محمود (جلد 6) — Page 50
۵۰ ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ وہ بغیر کسی محنت کیے انعام کرتا ہے ۔ دوسرے کسی محنت کے بعد انعامات عنایت فرماتا ہے ۔ الرحمن الرحیم میں ربوبیت دو قسم کی بتلائی ہے۔ ایک ربوبیت تو بغیر محنت اور دوسری بعد محنت پھر فرمایا۔ مالك يوم الدين - یعنی جو اس سب کی ربوبیت ہے۔ وہ لغو ہیں۔ بلکہ اس نے جزا و سزا رکھی ہے ۔ ربوبیت کے بعد نتائج نکلتے ہیں۔ پھر فرمایا۔ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ وہی ربوبیت جو الترحمن الرحیم میں بیان کی تھی وہی اس جگہ دوسری طرح بیان کی گئی ہے۔ اس جگہ رحیمیت کو پہلے رکھا گیا ہے اور رحمانیت کو بعد میں۔ رحیمیت یہ ہے کہ انسان کچھ کرتے ہیں اور بعد میں خدا کی طرف سے انعامات کا صدور ہوتا ہے۔ اس کے متعلق ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب خدا کی طرف سے یونسی بغیر کسی محنت کے رحمات کے ماتحت انعام ہو رہا ہے تو پھر اس سوال سے کیا مطلب ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں ۔ یعنی صفت رحیمیت کے ماتحت سوال کرتے ہیں جبکہ رحمانیت کے ماتحت خود بخود انعامات حاصل نیست ہو رہے ہیں۔ پس رحیمیت پہلے کیوں رکھی گئی ہے ؟ یہ ایک خاص نکتہ ہے جس کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے قرآن کریم پر اس رنگ میں غور کیا ہے کہ قرآن شریف میں کوئی لفظ بیہودہ نہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک لطیف بات بیان کی ہے ۔ اس خیال کے مطابق تو اياك نستعين و اياك نعبد چاہتے تھا کوئی کہہ سکتا ہے کہ قافیہ ملانے کے لیے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین کہ دیا ہے، لیکن اگر کوئی انسان غور کرے گا تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ قرآن قافیہ نہیں ملاتا بلکہ یہ اور ہی باتیں مد نظر رکھتا ہے ۔ ہاں اس میں یہ خوبی بھی ہے کہ قافیہ بھی مل جاتا ہے۔ ہیں اب غور کرنا چاہتے کہ اس میں کیا وجہ اور حکمت ہے۔ سویاد رکھنا چاہیئے کہ رحمانیت دو قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک جو رحیمیت کے بغیر ہوتی ہے اور دوسری وہ جو رحیمیت کے ساتھ ہوتی ہے ۔ وہ عام ہے اس میں کافر وسلم کی تمیز نہیں مثلاً انسان کو آنکھیں دی گئی ہیں مگر بعض اوقات کوئی مسلمان نابینا ہوگا اور کافر سو جا کھا ۔ غرض ساری مخلوق کے ساتھ عام ہے۔ یہ رحمانیت جب تک ہر انسان کے ساتھ نہ ہو وہ کچھ بھی کام نہیں کر سکتا۔ منہ میں زبان ہوگی تو بولے گا۔ کان ہوں گے تو سنے گا ۔ ہاتھ ہوں گے تو کام کرے گا۔ پیر ہوں گے تو چلے گا پھرے گا۔ اگر ہاتھ نہ ہوں آگ لگ جاتے تو آگ کیونکر بجھائے گا۔ یہ وہ رحمانیت ہے جس کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔ پس لی ہوئی چیز کا مانگتا تحصیل حاصل ہے ۔ اس عام رحمانیت کے مانگنے کی ضرورت