خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 50

ہیں۔ایک تو یہ ہے کہ وہ بغیر کسی محنت کے انعام کرتا ہے۔دوسرے کسی محنت کے بعد انعامات عنایت فرماتا ہے۔الرحمن الرحیم میں ربوبیت دو قسم کی بتلائی ہے۔ایک ربوبیت تو بغیر محنت اور دوسری بعد پھر فرمایا۔مالک یوم الدین۔یعنی جو اس سب کی روایت ہے۔وہ لغو ہیں۔بلکہ اس نے جزاء وسزا رکھی ہے۔ربوبیت کے بعد نتائج بھتے ہیں۔پھر فرمایا۔آتِيَاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ وہی ربوبیت جو الرحمن الرحیم میں بیان کی تھی وہی اس جگہ دوسری طرح بیان کی گئی ہے۔اس جگہ رحیمیت کو پہلے رکھا گیا ہے اور رحمانیت کو بعد میں۔رحیمیت یہ ہے کہ انسان کچھ کرتے ہیں اور بعد میں خدا کی طرف سے انعامات کا صدور ہوتا ہے۔اس کے متعلق ایک سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ جب خدا کی طرف سے یونی بغیر کسی محنت کے رحمایت کے ماتحت انعام ہو رہا ہے تو پھر اس سوال سے کیا مطلب ہے کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں۔یعنی صفت رحیمیت کے ماتحت سوال کرتے ہیں جبکہ رحمانیت کے ماتحت خود بخود انعامات حاصل ہورہے ہیں۔پس رحیمیت پہلے کیوں رکھی گئی ہے ؟ یہ ایک خاص نکتہ ہے جس کو وہ شخص سمجھ سکتا ہے جس نے قرآن کریم پر اس رنگ میں غور کیا ہے کہ قرآن شریعت میں کوئی لفظ بیہودہ نہیں۔اس میں اللہ تعالے نے ایک لطیف بات بیان کی ہے۔اس خیال کے مطابق تو اياك نستعين و اياك نعبد چاہیئے تھا کوئی کہہ سکتا ہے کہ قافیہ ملانے کے لیے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین کہ دیا ہے، لیکن اگر کوئی انسان خور کرے گا تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ قرآن قافیہ نہں ملاتا بلکہ یہ اور ہی باتیں مد نظر رکھتا ہے۔ہاں اس میں یہ خوبی بھی ہے۔کہ قافیہ بھی مل جاتا ہے ہیں اب غور کرنا چاہیئے کہ اس میں کیا وجہ اور حکمت ہے سو یاد رکھنا چاہیئے کہ رحمانیت دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک جو رحیمیت کے بغیر ہوتی ہے اور دوسری وہ جور جیمیت کے ساتھہ ہوتی ہے۔وہ عام ہے اس میں کافر مسلم کی تمیز نہیں مثلاً انسان کو آنکھیں دی گئی ہیں۔مگر بعض اوقات کوئی مسلمان نابینا ہوگا اور کافر و جاکھا غرض ساری مخلوق کے ساتھ عام ہے۔یہ رحمانیت جب تک ہر انسان کے ساتھ نہ ہو وہ کچھ بھی کام نہیں کر سکتا۔منہ میں زبان ہوگی تو بولے گا۔کان ہوں گئے تو سُنے گا۔ہاتھ ہوں گے تو کام کرے گا۔پیر ہوں گے تو چلے گا پھرے گا۔اگر ہاتھ نہ ہوں آگ لگ جاتے تو آگ کیونکہ بجھاتے گا۔یہ وہ رحمانیت ہے جس کے بغیر کوئی کام نہیں ہو سکتا۔پس علی ہوئی چیز کا مانگتا تحصیل حاصل ہے۔اس عام رحمانیت کے مانگنے کی ضرورت