خطبات محمود (جلد 6) — Page 499
نہیں ہوتے وہ یقین کرلے کہ اس کا نفس اسے دھوکہ دے رہا ہے۔اور جو دیکھے کہ دوسرے کو دعوئی تو محبت الہی کا ہے، لیکن اس میں آثار نہیں پائے جاتے۔تو یقین کرلے کہ یا تو وہ خود دھوکہ خوردہ ہے یا یا دوسروں کو دھوکہ دینے والا ہے۔اس بات کو سوچتے ہوتے میں اپنی جماعت کے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے نفسوں کو دیکھیں اور پتہ لگائیں کہ خدا تعالے کی محبت کا ان کے سونے جاگنے اُٹھنے بیٹھنے۔چلنے پھرنے کھانے پینے۔بولنے چاہنے لین دین نماز روزہ حج زکوۃ پر کیا اثر ہے۔یا یہ نہایت ہی کرد اور بو دا دعوی ہے کہ اس کا کچھ اثر ہی نہیں۔یاکم سے کم انسان اتنا تو سوچے کہ اگر میرے اعمال اور افعال میں خدا تعالیٰ کی محبت کے آثار مجھے نمایاں نظر نہیں آتے۔تو وہ ہستی جو بار یک دربار یک باتوں کو جاننے والی ہے۔اس پر میرے دعوئی کا کیا اثر ہے۔وہ خیال کرے کہ میں جاہل ہوں۔میں موٹی عقل کا آدمی ہوں۔اس لیے میرے دعوئی کا اثر مجھے محسوس نہیں ہوتا، لیکن وہ ہستی جو باریک سے باریک بات کو جانے نہیں دیتی۔اس کا مجھ سے کیا سلوک ہے۔آیا خدا تعالیٰ کے صفات میں میرے دعوی کے بعد کوئی تغیر معلوم ہوتا ہے یا نہیں۔اگر اس کا دعوی سچا ہوگا۔تواس کالازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ الہ تعالی کو اس سے محبت ہو گی پس انسان کو چاہتے کہ خدا تعالیٰ کی صفات کو دیکھے۔کہ خلا اس کے لیے غیرت دکھاتا۔اس سے اپنے پیاروں جیسا سلوک کرتا۔اس سے پیار کی باتیں کرتا۔اس کے کام کو اپنا کام سمجھتا ہے۔اگرالیا نہیں تو سمجھے کہ خدا کی محبت کا وہ جو دعویٰ کرتا ہے۔جھوٹا اور بالکل باطل ہے۔کیونکہ اگر وہ اپنے دعوی کے آثار محسوس نہیں کرتا۔تو خدا تعالیٰ کو تو اس کی حقیقت معلوم ہے۔خدا اس سے اپنی محبت کا اظہار کرتا۔لیکن جبکہ خدا تعالیٰ کی صفات سے بھی اس کا اظہار نہیں ہوتا۔تو معلوم ہوا کہ دعویٰ ہی باطل ہے۔میں نے ایک دفعہ رویا۔میں دیکھا۔اسی بات کے متعلق کہ محبت کا کیا اثر ہوتا ہے۔میں نے دیکھا ایک نہایت خوبصورت چبوترہ ہے۔اس پر ایک بچہ کھڑا ہے۔جو محبت سے آسمان کی طرف ہاتھ پھیلاتے دیکھ رہا ہے کہ اتنے میں آسمان پھٹا ہے۔اور ایک پروں والا انسان اُترا ہے اور قریب آنے پر جب میں نے دیکھا تو معلوم ہوا کہ عورت ہے اور خیال ہوا کہ حضرت مریم ہیں۔انہوں نے بچہ کے اوپر پر پھیلا دیئے اور جھک کر اس طرح پیار کیا ہے جس طرح ماں اپنے بچہ کو کرتی ہے۔اس وقت میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے۔LOVE CREATes Love