خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 484

اور سازش کرنے والوں کے خلاف اُنگلی بھی نہ ہلاتے تو یہ جھوٹا عبد ہو گا۔ پس انسانی پیدائش میں یہ بھی غرض ہے کہ ایک انسان دوسرے گمراہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلائے ۔ بار بار اس امر پر توجہ دلائی جاتی ہے مگر ہزاروں احمدی ایسے ہونگے جن کے ذریعہ اب تک ایک با اس امر پر توجہ دائی جاتی ہے مگر ہزاروں احمدی ایسے ہونے بھی احمدی نہ ہوا ہو گا ۔ اگر خدا اگر خدا کے دربار کے باغیوں کو وفاداری کی طرف نہیں بلاتے، اگر فتنہ پردازوں کا فتنہ دور کرنے کی سعی نہیں کرتے۔ تو نہیں حق نہیں کہ ہم کہیں کہ ہم عبد ہیں ۔ کیونکہ جب تک عملی طور پر وفاداری کا ثبوت نہ دیا جائے ۔ اس وقت تک وفاداری کا دعوی صرف منہ کا دعویٰ ہے۔ بادشاہ کے ساتھ فریب ہے، یا اپنے نفس سے فریب ہے۔ یا دنیا کو فریب دیا جاتا ہے۔ میں آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس موقع کو ضائع نہ کریں جس وقت بارش ہوتی ہے تو بارش کے بعد زمین نرم ہو جاتی ہے۔ دانا زمیندار اس پر ہل چلاتا ہے، بیگن اگر وہ اس وقت کو یونہی گزر جانے دے تو اس کے لیے بجز افسوس کے اور کچھ نہیں۔ انبیاء و مرسلین کے زمانے روحانی بارشوں کے زمانے ہوتے ہیں جس کے بعد دلوں کی زمینیں نرم کی جاتی ہیں اور قبولیت کے لیے دل تیار کئے جاتے ہیں۔ دو قسم کی زمینیں ہوتی ہیں۔ ایک نرم دوسرے سنگلاخ جو زمینیں مٹی کی ہوتی ہیں۔ وہ بارش سے نرم ہو جاتی ہیں۔ اور دوسری وہ ہوتی ہیں۔ جو پتھریلی ہوتی ہیں۔ پتھر پر خواہ پچاس بارشیں ہوں وہ پتھری رہتا ہے۔ پس جو زمین نرم اور طین ہوتی ہے۔ بارش اس کو نرم کرتی ہے۔ اور جو ۔ اور جو پتھر ہوتے ہیں۔ ان کیلئے زلزلے آتے ہیں۔ اور ان کو آ ان کو آگ کے ذریعہ کھلایا جاتا ہے اور چور چو جاتا ہے اور چور چور کر دیا جاتا ہے۔ دونوں کے لیے کلا کے مرسلین آنے میں سامان ہدایت ہوتے ہیں ۔ پہلوں کے لیے خدا کی وحی اور کلام جس سے نرم دل فائدہ اُٹھاتے ہیں اور دوسروں کے لیے عذاب اور زلزلے ۔ اس وقت یہ دونوں باتیں حاصل ہیں ہم میں ایک خدا کا نبی آیا ۔ اس لیے ہمارا زمانہ ایک نبی کا زمانہ ہے ۔ جبکہ دلوں کی زمینیں نرم کی گئی ہیں ۔ اور پھر خدائی عذابوں نے بھی پتھر دلوں کو نرم کر دیا ہے۔ ایسے وقت میں ہی جو منافع حاصل کیا جائے ۔ وہی حاصل ہو سکتا ہے اور اگر اس وقت کو لوپنی چھوڑ دیا تو دہی حال ہوگا ۔ جیسا کہ جب زمین سخت ہو جاتی ہے۔ تو اس پر ہل ٹوٹ جاتا ہے۔ پس ہمیں اس زمانہ سے فائدہ اُٹھانا چاہیئے ۔ اور اس وقت بیج ہونا چاہیئے۔ تاکہ ایک اللہ کے پرستار پیدا ہوں ۔ اگر یہ موقع نکل گیا۔ تو ہم خدا کو کیا منہ دکھائیں گے۔ قادیان میں ایسے لوگ ہیں ۔ جو ابھی تک سلسلہ سے الگ ہیں۔ اور قادیان کے تین تین چار چار میں ارد گرد اس قسم کے دیہات ہیں ۔ جہاں اس وقت تک ایک بھی احمدی نہیں ۔ اور یہ - اور بعض اس قسم کی جگہیں ہیں۔ ہیں۔ جہاں احمدی ہیں تو سہی ۔ مگر وہ احمدی برائے نام ہیں۔ وہ اس طرح دنیا کے پیچھے لگے ہوتے ہیں۔ ان کی اصلاح ؟ ہیں۔ ان کی اصلاح بھی ضروری ہے۔