خطبات محمود (جلد 6) — Page 474
۴۷۴ آپس میں محبت و دادکم ہوگیا۔ تو دیکھ لو مسلمانوں کی کیا بُری گت ہوئی ۔ جو شخص ترک گفتگو کرتا ہے۔ وہ اسلام پر حملہ کرتا ہے۔ دیکھو قرآن خدا کے علم میں موجود تھا۔ مگر یہ دنیا کے لیے مفید نہیں تھا۔ یہ ای وقت فائدہ مند ہوا ۔ جب خدا نے اسے اپنے ایک بندے کے ذریعہ دنیا میں نازل فرمایا پھر اس کو اٹھانے والی ایک جماعت ہوتی ۔ اور اس کی تعلیمات کو دنیا میںپھیلایا۔ اس لیے ایسی جماعت میں تفرقہ ڈالنا اسلام میں فتنہ ڈالنا ہے ۔ اس لیے اس راہ سے بچو جس پر چل کر اسلام پر حرف آئے ۔ سے بچھو کر اسلام پر حرف آتے۔ پر دو باتیں خاص طور پر مد نظر رکھنی چاہئیں (ا) بدلنی نہ ہو (۲) در گزر ہو۔ جب یہ دونوں باتیں مدنظر ہوں تو پھر بھی تفرقہ نہیں پیدا ہوسکتا۔ یاد رھو تمہیں اپنے رشتہ داروں عزیزوں کی نسبت اسلام سے زیادہ محبت ہونی چاہیے تم دیکھو کہ خدا رسول اور قرآن کدھر ہیں۔ بدنی کو چھوڑ دیا کرو۔ اور عفو سے کام لیا کرو اس کی وجہ سے تمام اختلاف دور ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس بات کے سمجھنے کی توفیق دے ( الفضل در جولائی نشاته ) (