خطبات محمود (جلد 6) — Page 473
ہوں۔یہ ایک خطرناک مرض ہے۔حضرت صاحب نے اس سے بچنے پر بہت زور دیا ہے۔حضرت خلیفہ اول کی تو تحت زندگی اسی پر وعظ کرتے گزری میں بھی تمہیں اکثر کہتا رہتا ہوں کہ بدقنی سے بچو۔احمدی اور مسلم کیا۔اور بدلنی کیا۔ان کا آپس میں تعلق ہی کیا ہے۔یونی قیاس کر لیا جاتا ہے کہ فلاں شخص نے جو فلاں بات کی ہے۔وہ عداوت سے کی ہے اور یہ محض بدعتی ہے۔لوگ تو کہتے ہیں کہ آٹے میں نمک۔مگر وہ سراسر نمک ہی ہوتا ہے۔آٹا تو ہوتا ہی نہیں۔ان کی بدظنی کی اکثر کوئی وجہ نہیں ہوتی۔اس سے بچو۔یہ سب سے بڑی بیماری ہے۔جو اتحاد واتفاق کو توڑ دیتی ہے۔دوسری چیز جو اتحاد کو توڑنے والی ہوتی ہے۔وہ عفو کی صفت کا موجود نہ ہوتا ہے، جرم تو ہوتا ہے مگر اس کو عفو کرنا بھی ایک کام ہے۔جب دیکھتے ہیں کہ کسی سے غلطی ہوتی ہے۔تو اس کو معاف نہیں کرتے۔اس سے در گزر نہیں کرتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو تین دن تک فقہ کی وجہ سے نہیں بولتا۔اس کا ہم سے تعلق نہیں یہ معمولی سی بات ہوتی ہے۔اس پر گفتگو چھوڑ دیتے ہیں۔اور مدتوں آپس میں نہیں بولتے۔اول تو میں نے بتایا ہے کہ بدلتی سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔دوسرے عفو اور دور گزر کا نہ ہونا وہ خرابیاں پیدا کرتا ہے۔اگر بدلنی ہو بھی تو عفو سے کام لینا چاہیئے۔ورنہ عفوکس غرض سے رکھا گیا ہے۔سیاسی طور پر قطع کلام کرنا ایک مزا ہے۔لیکن بے وجہ یا معمولی سی بات پر بولنا چھوڑ نا ایمان میں کمزوری کی علامت ہے۔اس کا نتیجہ شقاق وافتراق ہے۔میں جانتا ہوں۔ہمارے یہاں قادیان میں ایسے بعض لوگ موجود ہیں۔جو مہینوں بلکہ سالوں سے آپس میں نہیں بولتے۔اور پھر وہ خیال کرتے ہیں کہ ان کے عمل میں اور ان کے ایمان میں کوئی کمی نہیں۔اور اس کا نتیجہ اسلام کے لیے کوئی خرابی پیدا نہیں کرتا۔حالانکہ میں نے بتایا ہے کہ بعض گناہ ذاتی ہوتے ہیں کہ ان کا اثر محض اس شخص کی ذات تک ہوتا ہے۔خواہ بالواسطہ دوسروں پر بھی اثر ڈالے مگر یہ وہ گناہ ہے، جو براہ راست دوسروں پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ایسا شخص جو دوسروں سے گفتگو ترک کرتا ہے اسلام میں تفرقہ ڈالتا ہے۔اور پھر وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ میں مسلم ہوں اور مخلص ہوں۔اسلام کس چیز کا نام ہے خالی اس تعلیم کا نام نہیں جو قرآن کریم میں ہے۔بلکہ اسلام اس جماعت کا نام ہے جو اسلامی لوار کو اُٹھاتے ہوئے ہے۔خالی کتاب کیا چیز ہے۔اگر اس کی تعلیمات کا ظہور نہیں ہوتا۔یہ کتاب کیسے پھیلے۔اگر اس کے بھنڈا بردار نہ ہوں۔جب مسلمانوں نے اس گر کو بھلا دیا۔اور بخاری کتاب الادب باب الهجرة