خطبات محمود (جلد 6) — Page 472
صاحب کے ہم خیال لوگوں میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لی جاتے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ میں نے آخری چارہ کار اس اختلاف سے بچنے کا سوچ لیا تھا۔اور اپنے دل میں فیصلہ کر لیا تھا۔کہ اگر یہ صورت نہ ہوئی۔تو میں اختلاف مٹانے کے لیے مولوی محمد علی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا۔غرض جب اکٹھے ہوئے تو پہلے ہی سوال ان کی طرف سے ہوا کہ خلیفہ ہونا چاہتے کہ نہیں۔اور پھر انی کی طرف سے جواب دیا گیا کہ خلیفہ کی ضرورت نہیں مگر ہم خلافت کے قائل تھے اور ہمارے نزدیک یہ صورت فیصل شدہ تھی۔میں نے کہا کہ چلو مجمع میں پیش کر دیتے ہیں مجمع جس کو چاہئے۔خلیفہ منتخب کرے۔مولوی محمد علی صاحب نے بے اختیار کہا کہ آپ اس لیے کہتے ہیں کہ آپ جانتے ہیں کہ خلیفہ کس نے ہونا ہے ایس کے صاف منے یہ تھے کہ تم نے منصوبہ کیا ہوا ہے۔اور یہ ان کی محض بدنی کا نتیجہ تھا۔حالانکہ اللہ تعالی بہتر جانتا ہے کہ میں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ میں اختلاف ہوتا دیکھنے کی بجائے جس شخص کو وہ پیش کریں۔اس کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا۔اور میں جانتا تھا کہ جب میں بیعت کروں گا۔تو میرے دوست بھی بعیت کر لیں گے لیکن میں نے یہ فیصلہ کرلیا تھا۔کہ اگر میرے دوست اس بات پر آمادہ نہ ہوں تومیں خود اختلاف سے بچنے کے لیے بیعت کر لوں گا، اگر دوست بھی قربان کرنے پڑیں تو میں قربان کر دونگا لیکن ان کے دل میں یہ باطنی تھی کہ میں خود ہی خلیفہ بنا چاہتا ہوں۔اس لیے انھوں نے مخالفت کی۔آخر وہی ہوا۔جو خدا کو منظور تھا۔خیر اگر ان کی بدظنی ہیں تک رہتی تو خیر تھی۔یہ بنی دور ہوسکتی تھی۔مگر اب بنی ہاں تک بڑھی کہ انہوں نے کہا کہ مجھے مارنا چاہتے ہیں۔اور پٹھان میرے مارنے کے لیے مقرر ہوگئے ہیں اس کے لیے انہوں نے پرے مقرر کئے۔آخر وہ یہاں سے چلے گئے، لیکن اگر وہ رہتے تو اختلاف نے اس وقت تک اتنی ضد نہیں پکڑی تھی۔ممکن تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل کو صاف کر دیتا۔پاس کا رہنا۔بدظنیوں کو دور کر دیتا۔مگر اب جبکہ وہ ضد میں بہت ترقی کر گئے ہیں۔ایک جگہ رہنا مفید نہیں ہو سکتا، مجھے جب معلوم ہوا کہ ان کو ایسا خطرہ ہے۔تو میں نے ان کو خط لکھا کہ میں نے سُنا ہے کہ آپ جانا چاہتے ہیں۔میں ذمہ لیتا ہوں کہ آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچے گی۔آپ یہاں رہیں۔انھوں نے مجھ کو خط کے ذریعہ توسی جوان دیا کہ کیا میں قادیان کو چھوڑ سکتا ہوں چھٹی کے دن یا ہر گزارنے جاتا ہوں، لیکن جب میں خود گیا۔اور ساتھ نواب محمد علی خان صاحب کو لے گیا۔تو انہوں نے بجاتے میرے ساتھ باتیں کرنے کے میاں لگتا ہے جو باہر پھر رہا تھا۔باتیں شروع کر دیں کہ گنا میاں بگھا کیا حال ہے ؟ کب آیا یہ ہے وہ ہے۔اس سے مجھے معلوم ہوا کہ وہ مجھ سے باتیں کرنے سے پہلو تہی کرتے ہیں۔اس لیے میں چلا آیا۔یہ تمام منی کا نتیجہ تھا جس میں مبتلا ہو کر انسان کہیں سے کہیں نکل جاتا ہے۔مجھے اس کا بڑا تجربہ ہے۔میں روز دیکھتا