خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 464

هم ہیں۔ ان لوگوں کے ہم پر حقوق ہیں۔ وہ ہمارا فرض اور ہمارا کام کر رہے ہیں۔ اگر ہم ان کے لیے دعائیں نہیں کرینگے۔ تو ان کے حقوق کا اتلاف کرینگے پس جو بھائی گئے ہوتے ہیں۔ ان کے لیے اور جو جانے والے ہیں۔ ان کے لیے دعائیں کردو کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو۔ ان کی مدد فرمائے ۔ ان کو ہدایت پر قائم رکھے۔ اور ان کے ذریعہ ہدایت پھیلے۔ جو لوگ باہر جاتے ہیں۔ ان پر کئی قسم کے ابتلا ۔ آتے ہیں اور ان کے ورغلانے کے کئی سامان ہوتے ہیں۔ عیسائیوں کو دیکھ لو کہ جب وہ باہر گئے ۔ تو دوسروں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے رعایتیں دینے لگ گئے کہ وہ ہم میں شامل ہو جائیں ۔ یا تو میٹی کہتے تھے کہ میں موٹی کی شرعیت کو قائم کرنے آیا ہوں یا عیسی کے ماننے والوں نے شریعت کو لعنت ٹھہرا دیا پیس مبلغوں کیلئے بالخصوص دعائیں کرو۔ ان کے رستے میں بڑے بڑے ابتلاء ہوتے ہیں۔ اور ان کے رستے میں خطرناک گڑھے ہوتے ہیں۔ وہ اس کام کے لیے نکلے ہیں۔ جو ہم میں سے ہر ایک کا کام ہے لیس ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے لیے دعا کریں کہ خدا تعالیٰ کی ہدایت ان کے ساتھ ہو۔ اور وہ ایمان پر قائم رہیں۔ اور دین کی کوئی خدمت ان کے دل میں عجب نہ پیدا کر دے ۔ وہ فخر میں نہ آئیں۔ اور اپنی کامیابیوں پر گھمنڈ نہ کریں۔ اور نہ تبلیغ میں وہ طریق اختیار کریں جو دین میں فساد کا موجب ہو کہ غیر واجبی نرمی شروع کر دیں لیپس ہم میں سے ہر ایک کو چاہیئے کہ ان کے لیے دعا کرے ۔ ان کی کامیابی کے لیے اسلام کی ترقی کے لیے اور ان کے لیے جو ارادہ رکھتے ہیں ۔ شاید یہ عشرہ ہی ہماری آئندہ ترقیوں کا ذریعہ ہو جاتے۔ الفضل ارجون واته )