خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 465 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 465

۴۶۵ 86 لہو لگا کر شہیٹروں میں ملو ۱۹۲۰ ا فرموده ۸ ارجون ۱۹مه حضور نے تشد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔اللہ تعالیٰ نے میسج موعود کے متعلق جس قدر ترقیات کے وعدے فرماتے ہیں۔وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ ان میں خدا تعالیٰ نے اپنے اختیار ہی کا دخل رکھا ہے۔اور ان میں انسانوں کا بہت ہی کم دخل ہے جتنی پیشگوئیاں پہلے زمانہ کی آخری زمانہ کے متعلق ہیں۔ان سب سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت خود اپنی طرف سے کچھ سامان پیدا کرے گا۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں زیادہ فتنہ ہوگا کیونکہ غیر معمول سامان اسی وقت استعمال میں لائے جاتے ہیں۔جب معمولی سامانوں سے کام نہ چلے۔حضرت اقدس کے جس قدر معجزات ہیں۔ان میں یہی نظارہ نظر آتا ہے۔جب غیر معمولی حالات پیدا ہوتے ہیں۔تب اللہ تعالیٰ ان کو اپنے قانون خاص سے توڑتا ہے۔یہ بھی نہیں ہوتا کہ ایک شخص کے پاس عمدہ پانی ہو۔اور پھر اس کے لیے خدا خاص طور پر بادلوں کو لاتے اور اس پر برسائے۔بلکہ وہ بادلوں کو تب لاتا ہے جب خاص طور پر اسے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔تو خدا کا خاص قانون جب ہی جاری ہوتا ہے۔جب عام قانون انسان کے لیے بند ہو جاتا ہے۔میں خدا تعالے کی طرف سے اس زمانہ کے متعلق اس بات پر زور دیا جانا کہ آخری زمانہ مں خدا تعالی کی طرف سے نفرت انگی اس سے پتہ لگتا ہے کہ اس زمانہ میں شرارت بھی حد کو پہنچ جائیگی۔بنی نوع انسان حیران ہونگے کہ ان مسلمانوں کا کیونکر مقابلہ کریں۔اب مقابلہ نہایت مشکل ہے مگر اس وقت خدا تعالیٰ خاص ذرائع پیدا کریگا کیونکران فتنوں کو دور کرنا اسی کی شان سے وابستہ ہے۔آج ہم دیکھتے ہیں۔کفر و ضلالت نے جو آج ترقی کی ہے۔اس سے پہلے کبھی یہ ترقی نہیں ہوئی تھی حتی کہ کسی نبی کے زمانہ میں بھی یہ حالت نہ تھی۔یہ سچ ہے کہ اہل شرارت کے مقابلہ میں اہل حق کی تعداد ہمیشہ کم اور حالت کزور رہی ہے مگر ایسی نہیں۔جیسی اس وقت ہماری ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ ہم تھور