خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 447

۴۴۷ ایک اچھا ہوتا ہے۔ ایک بہت اچھا ہوتا ہے اور اسی طرح ایمان کے بھی درجے ہوتے ہیں۔ اور مومن کی بھی یہی حالت ہوتی ہے بعض بہت اعلیٰ ہوتے ہیں۔ اور بعض اعلیٰ ہوتے ہیں۔ پھر نہ صرف انبیاء و مومنین میں ہی تفاوت درجہ اور ایک کو دوسرے پر فضیلت ہوتی ہے، بلکہ کفار میں بھی مختلف درجات ہوتے ہیں کوئی بڑا ہوتا ہے۔ کوئی چھوٹا اور ایک کفار ایسے ہوتے ہیں۔ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ (الفرقان : ۴۵) پھر اور چیزوں کے متعلق فرمایا ۔ مُختلِفٌ الْوَاهَا (فاطر (۲۸) پھر اس اختلاف کو ہر چیز کی حالت میں بلاتا اور دکھلاتا ہے۔ مثلاً پھلوں ہی کو دیکھو کچھے کے کے اختلاف کو چھوڑ کر دیکھو کہ بعض بیٹھے ہوتے ہیں۔ بعض ترش پھر زمینیں ہوتی ہیں۔ ان کی مختلف استعدادیں ہوتی ہیں بعض کی پیدا وار اچھی ہوتی ہے بعض کی اچھی نہیں ہوتی۔ پھر انسانوں اور زمین اور زمینی چیزوں ہی میں یا ختلاف نہیں بلکہ ملائکہ تک میں ہے بعض درجہ کے لحاظ سے چھوٹے اور بعض بڑے ہوتے ہیں غرض نہیوں کے درجہ میں اختلاف مومن و کافریں اختلاف منافقوں کی حالت میں اختلاف ۔ جانوروں میں۔ پرندوں چرندوں درندوں میں اختلاف پھر نباتات جمادات میں اختلاف موجود ہے۔ کوئی ایک چیز نظر نہیں آتی ۔ جو اس اختلاف سے بری ہو۔ اور اس اختلاف کو قرآن کریم تسلیم کرتا ہے اور اس کے متعلق فرماتا ہے کہ یہ ہماری طرف سے پیدا کیا گیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا - فَضَلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ربنی اسرائیل : ۲۲) اور الوَزْنُ يَومَشِدن الحق (الاعراف : 9) ہر ایک کے وزن دوسرے کے وزن سے الگ ہونگے ۔ پھر اس کو قائم کرتا ہے اور فرماتا - لَا تَسْتَلُوا عَنْ أَشْيَامَ (المائده : ۱۰۲) کہ قرآن کے نزول کے زمانہ میں زیادہ سوال نہ کر کیونکہ اگر ب باتیں بیان کردی جائیں تو پر تمہیں ایک حد تک اختلاف کا موقع نہ رہے گا۔ ہم نے ایک حد تک بتا دیا اور باقی کو تمہیں پر چھوڑ دیا۔ اس طرح گویا کہ اختلاف کے قیام پر زور دیا۔ پس اختلاف ہے اور ضروری ہے، لیکن جو اس اختلاف کو ٹانا چاہتا ہے۔ وہ غلطی کرتا ہے۔ کیونکہ یہ تو مٹ نہیں سکتا اور اس کا رہنا ضروری ہے ۔ اس طرح گویا ہے اتفاقی پیدا ہوتی ہے۔ یہ بہت بڑا گھر ہے ۔ اب میں اس کے متعلق بتاتا ہوں کہ جب یہ تسلیم کر لیا جاتے کہ اختلاف رہے گار تبھی اتحاد ہو سکتا ہے ۔ غور کرو۔ اگر اختلاف نہ ہوتا ۔ سب کا ایک رنگ ہوتا ۔ سب کی ایک خواہش اور سب کے ایک ہی جذبات ہوتے تو سب کا ایک ہی پیشہ ہوتا ۔ دنیا کسی قسم کی ترقی نہ کر سکتی۔ سائنس کی ترقی اختلاف کا نتیجہ ہے۔ جب آکسیجن اور نائٹروجن جو دونوں مختلف چیزیں ہیں نہ ملتیں تو پانی کہاں سے آنا۔ کیونکہ یہ دونوں جو مختلف ہیں۔ میں تو پانی بنے ۔ آگ نہ ہو۔ یا پانی نہ ہو ۔ سردی یا گرمی نہ ہو تو فصلوں کا تیار ہونا کس طرح ہو اور یہ اختلاف ہی بتاتا ہے کہ لوگوں کی طبائع میں اختلاف رکھا گیا ہے