خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 436

۴۳۶ ثلاً دیکھو یہی اتفاق و اتحاد کا مسئلہ ہے کوئی قوم نہیں جو کہتی ہوکہ اتفاق واتحاد نہیں چاہیئے ۔ دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک چلے جاؤ تمہیں اتفاق و اتحاد کے حامی ملیں گے۔ بدھوں کو کھو بھی اتفاق کیضرورت کوتسلیم کرتے ہیں عیسائی بی اتفاق واتحاد کراچی ہی مانتے ہی برف دنیاکی برای تیم کی آبدی میں اسکی ضرورت کو مانا جاتا ہے سیاسی جماعتوں میں بھی تجارت پیشہ گروہوں میں بھی۔ مذہبی لوگوں میں بھی اسی ضرورت تقسیم کی جاتی ہے لیکن با وجود اتنا زور دینے کے پھر بھی دنیا میںایسی جگہ کم نظر آئے گی ۔ جہاں اتفاق و اتحاد ہو۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے اتفاق و اتحاد کی تشریح نہیں کی۔ اور نہیں خیال کیا کہ اتفاق و اتحاد ہے کیا چیز؟ اس کے ہونے کے کیا فوائد ہیں اور نہ ہونے کے کیا نقصانات ۔ اور یہ حاصل کیونکر ہو سکتا ہے اور اس کے ذرائع حصول کیا ہیں پس دوسرے لوگوں کے نزدیک چونکہ یہ ایک غلط تعریف ہے۔ اس لیے اس کے نتائج بھی غلط نکلتے ہیں۔ جب تک صحیح تعریف اور صحیح ذرا تقع معلوم نہ ہوں ۔ اس وقت نتائج صحیح کیسے نکل سکتے ہیں لیکن اسلام نے اس کی صحیح تعریف اور ذرائع بتاتے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو اس میں غلطی نہیں لگنی چاہیتے۔ دوسرے لوگ بوجہ غلطی میں مبتلا ہونے کے اس چیز سے محروم رہیں۔ تو اور بات ہے ، لیکن مسلمانوں کو اس سے محروم نہیں رہنا چاہیئے ۔ اسلام نے اتفاق کی بنیاد ایمان پر رکھی ہے ۔ اور ایمان کی علامت اتفاق ہے۔ غیروں کے لیے اتفاق محض ایک دنیاوی فائدہ کی چیز ہے۔ مگر مسلم کے لیے اس کے ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری چیز ہے ۔ عیسائی مذہب کے لیے اتفاق کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ عیسائی اتفاق سے ایمانی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے ۔ ہاں دنیاوی فائدہ ان کے لیے اس سے ہوتا ہے۔ اگر ایک عیسائی اتفاق نہ کرے تو وہ یہ تو کہے گا کہ اس سے میری دنیا تباہ ہو رہی ہے، لیکن اس کے مذہب میں اس سے نقص کا کوئی احتمال نہ ہو گا۔ اسی طرح اگر ہندوؤں میں اتفاق نہ ہو۔ تو وہ اس نہ ہو۔ تو وہ اس کو اپنے ایمان کے لیے کوئی نقصان دہ امر نہیں خیال کرینگے۔ بلکہ اتفاق کے نہ ہونے کے نتیجہ میں اپنی دنیا کے لیے ہی خرابی بتائیں گے لیکن مسلمانوں کے لیے چونکہ قرآن کریم نے ایمان کی لازمی علامت اسے قرار دیا ہے ۔ اس لیے اگر ان میں اتفاق نہ ہو گا تو اس سے ان کی دنیا بھی برباد اور دین و ایمان بھی ضائع ہو جاتے گا۔ چونکہ اتحاد و اتفاق ایمان کی علامت ہے۔ جب علامت ہی نہیں ۔ تو کچھ بھی نہیں۔ سورج کے کے پڑھنے کی علامت یہ ہے کہ روشنی ہو۔ جب یں روشنی نہیں سورج بھی نہیں ہوگا، لیکن با وجود اس کے یہ اتنی اہم ہے ہم دیکھتے ہیں کہ سلمانوں میں یہ چیز نہیں پائی جاتی۔ جو اب ہم اس پر غور کریں۔ اور اس کے مالہ اور ما علیہ کو وہیں اور دکھیں کہ یہ ہے کیا چیز اسکی تعریف