خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 435

۴۳۵ 80 اتفاق واتحاد کے متعلق اسلامی تعلیم (فرموده ۳۰ ر اپریل ۱۹۲ ته ) ( حضور نے تشد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- آج میں وہ سلسلہ مضمون شروع کرتا ہوں ۔ جس کی تمہید میں پہلے بیان کر چکا ہوں۔ اس تمہیدیں میں نے بتایا تھا کہ جو لو ا تھا کہ جولوگ صرف الفاظ بولتے ہیں مگر ان پر غور نہیں کرتے۔ وہ ان نہایت عظیم الشان فوائد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جو ان میں مخفی ہوتے ہیں۔ یہ میری تمہید تھی کہ الفاظ کے اندر جو بات ہوتی ہے۔ وہ صرف حروف تک ہی محدود نہیں ہوتی ۔ بلکہ ایک اور چیز بھی ہوتی ہے۔ جو الفاظ کے پردے میں ہوتی ہے ۔ اور اس کا اسی وقت علم ہوتا ہے جب اس پر غور کیا جائے جب وہ پوشیدہ معنے معلوم ہوتے ہیں۔ اور پوشیدہ اثر محسوس ہوتا ہے ۔ اس وقت انسان کو حقیقی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ مگر جس وقت تک ان کی تشریح نہ کی جائے ۔ عام طور پر لوگ معلوم نہیں کر سکتے۔ میں نے اس مسئلہ کی تشریح کے لیے تمثیل کے طور پر دنیاوی اور دینی امور کے متعلق بعض باتیں بیان کی تھیں میں نے بتایا تھا کہ یورپ کی ترقی کار از صرف مسئلہ ارتقاء پر ہے جس کا منشار یہ ہے کہ دنیا کی ہر ایک چیز ترقی کی طرف جارہی ہے خواہ وہ بظاہر گر ہی رہی ہو، لیکن در حقیقت اس کا قدم ترقی کی طرف ہی اُٹھ رہا ہوتا ہے۔ انسان دن بدن آگے ہی آگے بڑھ رہا ہے۔ اور ہر قسم کے تغیرات بہتری کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ اس مسئلہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ میں نئے سے نئے علوم نکل آئے ۔ اسی طرح مذہبی دنیا کا بھی ایک مختصر سا اصل ہے اور وہ یہ کہ وسطی طریق کو اختیار کرنا چاہیے ۔ یہ بات مختلف تمدنوں اور اخلاق کے لوگوں میں پائی جائیگی مگر ان لوگوں نے اس سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھایا، لیکن اسلام نے اس نکتہ کو لیا ہے ۔ اور اس کو پھیلا کر اس کی تفصیل پر تمام باتوں کی بنیاد رکھی ہے ۔ اور کیوں نہ ہوتا۔ جبکہ اسلام اس خدا کا مذہب ہے۔ جو تمام فطرتوں کا پیدا کرنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام جس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے۔ اس کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈال دیتا ہے۔