خطبات محمود (جلد 6) — Page 424
۴۲۴ اعتراض کی بات نہیں ہے ہاں یہ دیکھو کہ انہوں نے کسی کو اچھا بھی کیا ہے یا نہیں ۔ اگر کیا ہے تو پھر یہی ان کا کام ہے دراصل نبی کا کام ڈاکٹر کے کام کی مانند ہوتا ہے اگر اس کے پاس زیادہ بیمار جمع ہوں تو ی اس کی بڑائی کا ثبوت ہوتا ہے نہ کہ اس کے نقص کا۔ پس اس کی قابلیت کو پرکھنے کے لیے یہ نہیں دیکھنا چاہتے کہ اس کے پاس بیمار زیادہ ہیں بکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس کے علاج سے کوئی اچھا بھی ہوا ہے یا نہیں، اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کی وجہ سے ایک ایسی جماعت پیدا ہو گئی ہے۔ جوا جو اچھی ہے تو اس کی قابلیت اور صداقت ثابت ہوگئی ۔ چونکہ اعلیٰ اخلاق دکھانا اور ان لوگوں کے مقابلہ میں دکھانا جو بد اخلاقی میں حد سے بڑھے ہوتے ہیں۔ نبی کا کام ہوتا ہے اس لیے اس کے نقش قدم پر چلنے والوں کا بھی فرض ہوتا ہے کہ اگرکسی میں اس پر والوں ہے کہ غلطی دیکھیں۔ تو اس کی اصلاح کی کوشش کریں نہ کہ اس سے قطع تعلق کر لیں ۔ اگر وہ لوگوں کی غلطیوں کی اصلاح نہیں کرتے، تو پھر انھوں نے بڑا کس کام کا اُٹھایا ہے ۔ کیا اسبات کا کہ لوگ خود بخود نیک ہو کر اور اعلیٰ اخلاق سیکھ کر ان کے پاس آجائیں۔ اور انھیں اپنے ساتھ ملالیں۔ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے کہتے ہیں کوئی پور بیا تھا۔ ان میں رسم ہے کہ جب کوئی مر جاتا ہے تو بین کرتے ہیں۔ جب وہ مرگیا۔ تو اس کی بیوی نے بین کرنے شروع کئے کہ ہائے فلاں سے اس نے اتنا روپیہ لینا تھا۔ اب کون لے گا۔ ایک پور بیا بولا " ہم ری ہم پھر اس نے کہا کہ فلاں جائیداد کا کون انتظام کرے گا۔ اس نے کہا۔ ہم دی ہم " " لیکن جب اس نے یہ کہا کہ فلاں کا اتنا روپیہ دینا تھا وہ کون دیگا تو اس نے کہا۔ میں ہی بولوں یا کوئی اور بھی بولے گا تو لینے کے وقت تو سب تیار ہو جاتے ہیں۔ اگر مفت کے ہمدرد اور خیر خواہ مل جائیں تو ان سے کون انکار کر سکتا ہے، لیکن ایسے لوگ انبیاء کے قائم مقام کہلانے کے مستحق نہیں ہیں۔ انبیاء کی قائم مقامی کے مستحق وہی ہوتے ہیں جو دوسروں کے نقصوں کا علاج کرتے۔ ان کے اخلاق درست کرتے ۔ ان میں تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ پس یہ خیال کرنا کہ اگر کسی سے کوئی ایسی بات سرزد ہو جائے جو اچھی نہ ہو۔ تو اس سے تعلق قطع کر لینا تمہارے لیے جائز نہیں ہے ۔ تمہارا یہ کام نہیں کہ جس میں کوئی نقص دیکھو ۔ اس کو چھوڑ کر بیٹھ جاؤ ۔ بلکہ یہ ہے کہ اس کا علاج کرو اور اس کے نقائص کو دور کرو۔ ایک دوسرے کی بیماریوں اور نقصوں کو دیکھنے کے لیے ہمارے مخالفین کی نظر کافی ہے وہ ایک دوسرے کے آئینہ میں اپنی شکل دیکھ کر فتویٰ لگا رہے ہیں۔ تم بھی اگر اسی طرح کرنے لگ جائے تو تم میں اور ان میں فرق ہی کیا رہ جائیگا۔ وہ بھی ایک دوسرے کے عیب نکالتے اور گرانیاں بیان کرتے ہیں تم میں سے بھی اگر ایک بھائی دوسرے بھائی کا عیب نکالتا ہے۔ تو وہ بھی دوسرں جیسا ہی