خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 408

۰۸ کے لیے خدا کے فضلوں کی بارش کی احتیاج ہے اور دشمن جس کے مٹانے کے لیے متحد ہیں۔ وہ قوم میں ہے مسلمانوں کی حالت ہر لحاظ سے دنیا میں گرمی ہوتی ہے۔ علم کے لحاظ سے دنیا سے یہ پیچھے۔ رتبہ وشان کے لحاظ سے یہ گرے ہوتے۔ یہ ان سے بھی بدتر ہیں جن کی حکومتیں سینکڑوں سال سے گئی ہوئی یہ ہیں ۔ اگر چہ انکی برائے نام ابھی تک حکومتیں باقی ہیں مگر ان قوموں کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے جن کے پاس کوئی حکومت نہیں ۔ اور اس کی وجہ ظاہر ہے کہ دوسری اقوام جو گری ہیں ۔ وہ بہ حیثیت قوم تھے گری ہیں۔ اور مسلمان بہ حیثیت افراد کے گر گئے ہیں۔ اور جو قومیں بہ حیثیت قوم کے گرتی ہیں۔ ہو سکتا ہے ۔ کہ ان کا زوال کسی خاص وجہ سے ہو۔ اگر وہ گر بھی جائیں ۔ تو سنبھل سکتی ہیں۔ کیونکہ ان کے افراد کی حالت اچھی ہوتی ہے۔ اور وہ یقین کرتے ہیں۔ کہ اگر ہم آج گر گئے ہیں۔ تو کل اٹھیں گے۔ کیونکہ ہم میں قابلیت ہے اور ہم میں جوش ہے ۔ اور ہم علم رکھتے ہیں۔ جیسا ہے ۔ اور ہم علم رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ ایک شہسوار گھوڑے پر سے گر پڑتا ہے۔ اس کا گرنا اتفاقی ہے ۔ کیونکہ وہ گھوڑے پر سوار ہوگا اور اس گرنے کی تلافی کمر دیگا ۔ مگر جو اناڑی گھوڑے پر سے گرتا ہے۔ وہ اتفاقی طور پر نہیں کرتا۔ بلکہ وہ نادانی سے کرتا ہے۔ اور اسے ضرور کرنا تھا اور گرنے میں اس کی ہڈی پسلی ضرور ٹوٹی ہوئی ۔ اس لیے آئندہ اس کو گھوڑے پر چڑھنے کی جرات نہیں ہو سکتی ۔ یہی حال ان اقوام کا ہوتا ہے جن کے افراد کی حالت خراب ہوتی ہے وہ جنب گرتی ہیں۔ تو ان کو قطعاً اُمید نہیں ہوتی کہ وہ پھر اُٹھیں گی ۔ کیونکہ ان میں کوئی بات ترقی کرنے کی باقی نہیں ہوتی۔ جن اقوام کے افراد کی حالت درست ہوتی ہے۔ وہ اگر بر سر حکومت نہ بھی ہوں ۔ تو ان میں ایثار کا مادہ ہوتا ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں قوم کی خاطر جان دینا پڑے ۔ تو وہ جان دینے سے نہیں ہچکچاتے۔ اور ان کے دل میں اجتماع کی ایک عزت و وقعت ہوتی ہے ۔ دیکھو مسلمانوں کی سلطنتیں برائے نام موجود ہیں۔ افغانستان کی سلطنت ہے۔ مراکو کی بھی گری پڑی سلطنت ہے۔ مصر کی ہے ۔ عربوں کی بھی سلطنت قائم ہوگئی ہے۔ ترکوں کے قبضہ میں بھی کچھ نہ کچھ رہے گا ہی۔ مگر جو صدمہ مسلمانوں کو ہے ۔ وہ ہندوؤں کو نہیں ۔ اگر چہ مسلمانوں کے پاس مذکورہ بالا سلطنتیں برائے نام ہیں۔ اور ہندوؤں میں کوئی سلطنت نہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہندو تیار ہیں کہ انہیں اگر قوم کی خاطر مرنا پڑے گا ۔ تو وہ مرینگے ۔ مگر مسلمانوں میں یہ بات نہیں ۔ اس لیے یہ محض شور مچاتے ہیں۔ جیسا کہ عورتوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ جب مرد گھر میں نہ ہوں ۔ اور چورہ آجائیں تو وہ چلانے لگتی ہیں کہ اٹھو میاں برکت اللہ اور نکلنا بھائی رحمت اللہ۔ ان کا خیال ہوتا ہے کہ