خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 409

۴۰۹ اس شور سے چور ڈر جائیں گے۔یہ ان کی کمزوری کی علامت ہے مگر جہاں مرد گھر میں ہوں۔اگر چور آئیں تو وہ خاموش ہو جاتے ہیں۔اور دروازے کھول دیتے ہیں کہ پور زد پر آجائیں تو ان کو نہیں پکڑ ہیں گے۔پس کام کرنے والے کام کیا کرتے ہیں۔اور بزدل محض شور مچایا کرتے ہیں کہ ہم یہ کر دینگے اور ہم وہ کر دینگے۔حالانکہ ان میں وہ چیز نہیں جو انکی روح تھی یعنی اسلام اور دین - دین کو تو چھوڑ دیا۔اور مسلمانوں کو جمع کرنے والی قومیت نہ تھی بلکہ اسلام ہی تھا جب یہی ان کے پاس نہ رہا۔توان کا تمام شور کیڈر بھبکیاں ہوگیا میں مسلمانوں کی حالت مایوسی بہت بڑھی ہوئی ہے۔کیونکہ ان کو سہارا نظر نہیں آتا جو دروازہ ان کے لیے کھولا گیا تھا۔اس کو یہ بند کرتے ہیں۔یہ کہتے ہیں کہ خدا نے جو رستہ کھولا ہے۔اس میں سے ہم داخل نہیں ہوں گے۔اور خدا کہتا ہے اگر تم اس ریستہ میں سے نہیں آؤ گے۔تو میں اور رستہ سے تمہارے لیے مدد نہ آنے دوں گا۔وہ ذریعہ جس سے اسلام دنیا میں ترقی کر سکتا ہے اور مسلمان عزت و وقار حاصل کر سکتے ہیں۔ایک ہی ہے۔وہ خدا نے مقرر کیا۔اور ہم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا، حضرت مسیح موعود کو خدا تعالیٰ نے کھڑا کیا۔آپ نے کہا کہ اسلام اب میرے ذریعہ دنیا میں ترقی کریگا۔وہ اسلام جس کے مٹ جانے کی پیشگوئیاں کر دی گئی تھیں کہ چند سالوں میں فنا ہوجائیگا۔وہ اسلام جس کی تباہی قریب نظر آتی تھی۔وہ اسلام جس کو مسلمان چھپا رہے تھے۔اسی اسلام کے متعلق حضرت صاحب نے فرمایا کہ یہ مٹایا نہیں جائے گا۔بلکہ دنیا میں پھیلے گا۔مگر ہاں میرے ذریعہ پھیلے گا۔اس کی ترقی کا ذریعہ میں ہوں گا۔چنانچہ آپ نے ایک نظم میں فرمایا : اک بڑی مدت سے دیں کو گر تھا کھا تا رہا اب یقیں سمجھو کہ آتے گھر کو کھانے کے دن یہ آواز ایسی آواز تھی۔جو جنگل سے بلند کی جائے مگر آواز بلند کرنے والا نظر نہ آتا ہو۔اس وقت اس کو لوگوں نے باور نہ کیا۔مگر آج دیکھو یہ آوازہ دنیا کے گوشوں میں پھیل گئی۔اور چاروں طرف سے لوگ اس کی طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔جس وقت حضرت صاحب نے یہ شعر کہا تھا اس وقت مخالفین لکھا کرتے تھے کہ کتنے عیسائی مسلمان ہوئے۔آج وہ دیکھیں کہ عیسائیت۔کے گھر میں ہماری تبلیغ ہو رہی ہے۔وہ لوگ جو اسلام کے مٹانے کے درپے تھے۔ان میں سے ہی لوگ نکل نکل کر اسلام پر قربان ہونے کو آمادہ وتیار ہیں۔اس وقت ہم سے مطالبہ کیا جاتا تھا تیم چند ہی تو سلم عیسائی دکھاؤ۔ہم آج مخالفوں کو درجنوں دکھانے کو تیار ہیں۔عیسائیوں میں سے