خطبات محمود (جلد 6) — Page 382
۳۸۲ مد میں ختم ہونے پر واپس آجائیں گے اس لیے وہاں کا یہ خرچ بھی یہاں کے احمدیوں کو ہی برداشت کرنا پڑیگا ختم پس وہ علاقہ مدد کا ستی ہے۔ کیونکہ وہ علوم کا مرکز رہا ہے اور دنیا نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے وہاں دنیا کے روحانی استاذ بھی جمع رہے ہیں۔ وہ اسلام کی خلافت کا بھی مرکز تھا۔ ان کا ہم پر بھی احسان ہے کیونکہ منگولی قوم کے لوگ بغداد کو فتح کرنے کے بعد مسلمان ہوتے۔ گویا فاتح ہو کر مفتوح ہو گئے ۔ اس لیے ہم پر ایک احسان ہوا۔ کیونکہ وہ حضرت صاحب کے آیا۔ تھے۔ اور حضرت صاحب کے ذریعہ ہم تمام پر احسان ہوا ۔ اس لیے وہاں کے قدیم باشندوں کو عیسائیت کے تاریک گڑھے سے نکالنے کے لیے احمدیوں کو جد و جہد کرنی چاہیئے ۔ لوگ تو پیٹتے ہیں کہ ہماری سیاست گئی۔ حالانکہ پیٹنے کی چیز یہ ہے کہ مذہب ہاتھوں سے جا رہا ہے۔ نادان حکومتوں کو رو رہے ہیں۔ حالانکہ رونے کا مقام یہ ہے کہ اسلام سے لوگ بے بہرہ ہو رہے ہیں۔ اگر تمام کی تمام حکومتیں مسلمانوں کی ہوں ۔ مگر ان میں اسلام نہ ہو۔ تو ان حکومتوں سے کیا فائدہ ؟ ہم کہتے ہیں دنیا میں ایک بھی مسلمانوں کی حکومت نہ ہو۔ مگر لوگ سب کے سب اسلام کے خادم بن جائیں۔ اگرچہ یہ ناممکن ہے کہ سب لوگ تو اسلام کو قبول کر لیں اور پھر بھی مسلمانوں کی حکومت نہ ہو پس ہم میں اور ان غیر احمدیوں میں یہی فرق ہے کہ وہ مرض کا غلط علاج کرتے ہیں اور ہم صحیح علاج کرتے ہیں۔ ہم منبع کو روکنے کی فکر میں ہیں۔ اور وہ مرض کے اصل علاج سے فائل - اگر مسلمان اسلام پر قائم ہوتے تو وہ ان حکومتوں کو مسلمان بنانے کی فکر کرتے جب یہ لوگ مسلمان ہو جاتے تو بجائے اس کے کہ ان کی تلوار مسلمانوں کے خلاف نکلتی ۔ ان کی تائید میںہو جاتی ، تیرہ سو برس سے موقع تھا کہ یہ لوگ یورپ میں تبلیغ اسلام کرتے اور یورپ کو مسلمان بناتے۔ مگر ادھر انہوں نے توجہ نہیں کی۔ برخلاف اس کے عیسائیوں کی ترقی سولہویں صدی میں شروع ہوئی ۔ اس عرصہ میں انہوں نے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو عیسائی بنالیا اور یہ اس غلطی کا خمیازہ ہے۔ جو یہ بھگت رہے ہیں۔ حالانکہ عیسائیت وہ مذہب ہے جس میں ذرہ بھی جان نہیں ۔ ان کے پاس وہ مذہب تھا۔ جس کو لیکر یہ دنیا کو اس سرے سے اُس سورے تک تبلیغ کے ذریعہ مسلمان بنا سکتے تھے مگر یہ ان کی غلطی تھی کہ انہوں نے تبلیغ اسلام سے کوتاہی کی ۔ اور اب اس غلطی کا علاج بجز احمدیت کے اور کوئی نہیں۔ پس اسلام کی ترقی تم سے وابستہ ہے۔ اس لیے تمہارا فرض ہے کہ ہو شیاری سے کام لو۔ یہ بوجھو تم پر اس لیے ڈالا گیا ہے کہ تم اس کو برداشت کرو۔ اور اس کو منزل مقصود پر پہنچاؤ۔ اگر تم شکستی کرو گئے تو یاد رکھو تم بھی یہیں ڈالے جاؤ گے۔ اسلام کی ترقی کا بوجھ تمہارے سروں پر رکھا گیا ہے اس لیے اس نه