خطبات محمود (جلد 6) — Page 380
۴۸۰ تعلق روحانی بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ سید عبدالقادر جیلانی بغدادیں ہی بڑھے اور وہیں فوت ہوئے ۔ اور ہندوستان میں ان کے ماننے والے بکثرت ہیں۔ اور یہاں سے بہت سے لوگ ان کے مقبرہ کی زیارت کو اب بھی جاتے ہیں۔ عرض بغداد مسلمانوں میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے کسی زمانہ میں وہ اتنا بڑا شہر تھا کہ کئی لاکھ حمام اس میں تھے اور جہاں لاکھوں حرام ہوں گے ۔ تو حماموں میں نہانے والے بھی اسی نسبت سے ہونے چاہئیں ۔ اور ہاں بہت بڑے بڑے کتب خانے تھے اور تمام دنیا کے علماء فضلا کا مرجع تھا ۔ بنو اُمیہ جو حضرت معاویہ کے خاندان کے لوگ تھے۔ ان کی حکومت ایک سو سال تک رہی۔ ان کی بربادی پر بنو عباس جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کے چا حضرت عباس کی اولاد سے تھے۔ ان کی حکومت قائم ہوئی ۔ اور انہوں نے بغداد کو اپنا دارالخلافہ بنایا ۔ اور کئی سو سال تک سپین کے سوا باقی تمام اسلامی دنیا افغانستان - ایران عراق عرب شام مصر افریقہ - ایشیاء کوچک سائیبریا اور روس کے بعض علاقوں پر ان کی حکومت رہی ۔ غرض وہ ایک لمبے عرصہ تک اسلامی دنیا کا مرکز رہا ہے گوند ہی نہ سہی سیاسی ہی سی۔ اس طرح وہ اسلامی شہروں میں سے ایک خاص شہر ہے اور اس پر عیسائیت نے اس جوش سے تبلیغ شروع کر دی ہے ۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ۔ چالیس پچاس برس میں خیال کیا جاتا ہے۔ وہ علاقہ تمام کا تمام عیسائی ہو جائے گا۔ جنگ کے دنوں میں اگر ہمارے پاس بھی ڈاکٹر ہوتے۔ تو ہم ان کو بھیجتے۔ وہ وہاں مفت علاج کرتے۔ اور دوائی بھی اپنے پاس سے دیتے جو ہم ان کو مہیا کرتے۔ واعظوں کو روکا جاسکتا ہے، لیکن طبیبوں کو کون روک سکتا ہے ۔ کیونکہ وہ سب ہے، خرچ اپنے پاس سے کرتے اور سر کار بھی ان کو روک نہ سکتی تھی ۔ کیونکہ ان کا کوئی بوجھ سرکار پر نہ تھا لیکن اب وہ وقت تو گیا ۔ اب صلح ہوگئی ہے۔ اور کسی حد تک آزادی بھی ہو گئی ہے۔ مجھے تار میں یہ بھی ۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں کے احمدیوں نے ڈیڑھ ہزار روپیہ چندہ جمع کر لیا ہے۔ رمشهر یقینی بات ہے کہ جہاں احمدیت گئی ۔ وہاں عیسائیت نہیں ٹھر سکتی جس طرح کہ لاحول سے شیطان بھاگتا ہے ۔ اسی طرح احمدیت سے عیسائیت بھاگتی ہے۔ جب عیسائیوں کو معلوم ہو جاتے کہ یہ احمدی ہے۔ تو وہ کہدیا کرتے ہیں کہ ہمیں بحث کی اجازت ہی نہیں ۔ مصر میں جہاں ہمارا کوئی مبلغ نہیں گیا۔ جب وہاں ہمارے شیخ عبدالرحمن صاحب تعلیم کے لیے گئے تھے تو وہاں عیسائیوں نے خوب شور مچایا ہوا تھا۔ ان کو ایک شخص ملا۔ جو قریب قریب عیسائی ہو چکا تھا ۔ انہوں نے اس کو بتایا ، کہ دیکھو قرآن شریف ہے تو مسیح کی وفات ثابت ہے۔ انجیل بھی یہی کہتی ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح کشمیر میں مدفون ہے ۔ کیا وہ بھی خدا ہو سکتا ہے۔ جب شیخ صاحب نے اس شخص کو یہ بتا کر پادری کے پاس بھیجا ۔ تو