خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 379 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 379

۳۷۹ کو خوشگوار بنایا جاسکتا ہے۔خدا تعالیٰ نے احمدیت کے ذریعہ اطمینان بخشنے والی چیز مہیا کردی ہے۔اب دنیا کا فرض ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاتے۔ہزاروں نہیں لاکھوں میں جنہوں نے اپنے دل و دماغ میں اس تعلیم کو لے لیا۔اور وہ اطمینان کی حالت میں ہیں پس اگر بعض لوگ ایسے ہوں بھی جن کی حالت اطمینان کی نہ ہو۔تو یہ نہیں کہا جاسکتا کہ میلاج ہی درست نہیں۔لاکھوں ہم دیکھتے ہیں جنہوں نے اس علاج سے فائدہ اٹھایا ہے۔اور اس کا بدبینی نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اس سے فائدہ اُٹھایا ہے۔کوشش کر کے اس علاج کو دوسروں تک پہنچائیں اور ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس آگ کے وقت میں اس پانی کو دنیا کے گوشوں میں پہنچائے، کیونکہ جب ایک محلہ میں آگ لگ جائے تو محلہ والوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس آگ کو فرو کرنے کی کوشش کریں۔جو اس فرض کو ادانہیں کرتے۔اور اس آگ کو نہیں بجھاتے تو وہ اپنے فرض کے ادا کرنے میں کوتا ہی کرتے ہیں۔خدا کے فضل سے اب کام دن بدن وسعت پکڑ رہا ہے، لیکن جس قدر ہمارا کام ہے۔اس قدر ہمارے پاس آدمی نہیں جن سے کام لیکر تمام دنیامیں بلیغ کو پنچائیں۔اگر چہ آدمی تو ہیں۔مگراس قابلیت کے نہیں جن کو جہاں بھیجنے کی ضرورت ہو بھیجے جاسکیں۔اور دراصل یہ ہماری کوتا ہی ہے۔کہ ہم نے تیس برس کے عرصہ میں ایسے آدمی کافی تعداد میں پیدا نہیں کئے جن سے ہم تبلیغ کا پورا پورا کام لے سکیں۔اسی ہفتہ میں بغداد سے ایک تار آتی ہے جس میں لکھا ہے کہ ہمیں ایک مبلغ کی فوراً ضرورت ہے۔یہ ایک نیامیدان ہے۔جب سے ترکوں کو شکست ہوئی ہے اور انگریزی گورنمنٹ اس علاقہ پر قابض ہوتی ہے مختلف مشنوں کے پادریوں نے اس علاقہ میں اپنا ڈیرا جمالیا ہے۔مگر وہ لوگ پادری کی حیثیت میں نہیں گئے بلکہ ڈاکٹر بن کرگئے ہیں اور زخمیوں کا علاج کرتے ہیں اور اس عرصہ میں قریباً دو ہزار پادری امریکہ سے وہاں پہنچ چکا ہے جن سے واقف کار لوگوں کو اتنا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ چالیس پچاس برس میں سارے کا سارا یہ علاقہ عیسائی ہو جائیگا۔۔بغداد اتنا مشہور شہر ہے کہ وہ لوگ بھی جو تاریخ سے ناواقف ہیں اور دبیات کی زندگی بسر کرتے ہیں اس کو جانتے ہیں۔کیونکہ بغداد ایک وقت میں دنیا کا نقطہ مرکزی بنا ہوا تھا۔اور دنیا اس کے گرد چکر کھا رہی تھی اور وہ گویا علوم ظاہری کے لیے بطور کعبہ تھا جس طرح روحانیت کے لیے لکہ کعبہ تھا۔چھے سو سال تک وہاں خلافت اسلامیہ قائم رہی اور دنیا کے ایک بڑے حصہ پر وہاں کی حکومت تھی۔بہت کم لوگ ہونگے جنہوں نے بہارون الرشید کا نام نہ گنا ہوگا۔حتی کہ قصہ کہانیوں میں جنوں کے ساتھ اس کا ذکر آجاتا ہے۔گویا کہ اس کی شہرت نے عالمگیر رنگ اختیار کر لیا ہے۔علاوہ اس کے ہندوستان ہے۔اس کا ایک خاص