خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 38

طرح مکانات ہیں اگر ایک مکان ہزار کرہ کا ہومگر کسی ترتیب سے کمرے بنے ہوں تو ایک نظر دیکھ کر انسان اس کا نقشہ بتا دے گا، لیکن اگر سو کمرہ بھی ایسی بے ترتیبی نے بنا ہو کہ کسی کا کسی طرف رخ ہو اور کسی کا کسی طرف تو خواہ ایک ایک کمرہ دیکھ لیا جائے تو بھی ذہن میں پورا نقشہ نہیں جم سکے گا ملا ہمارا اور دنگ ہاؤس ہے ۔ اس کو ایک نظر دیکھ کر انسان بتا سکتا ہے کہ کس صورت کا ہے، لیکن اگر اتنے ہی کمرے پراگندہ اور بے ترتیب طریق سے بنے ہوں تو نہیں بتا سکے گا۔ تو ترتیب بڑی ضروری ہے اور کسی چیز کے ذہن میں قائم رکھنے اور سمجھنے کے لیے نہایت ضروری ہے کہ اسے مختلف ابواب میں تقسیم کیا جائے۔ اور پھر فصلوں میں کیونکہ اس طرح انسان آسانی سے سمجھ سکتا ہے اسی لیے اعمال کی تفصیتیں بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اعمال کی ترتیب مقرر کر لی جائے ۔ اور جب ترتیب مقرر ہو جائیگی تو بہت سی باتیں جو یوں ذہن سے نکل جاتی ہیں محفوظ ہو جائیں گی۔ اور آسانی سے سمجھ میں آجائیں گی۔ میرے نزدیک ایک موٹی تقسیم اعمال کے ابواب کی اس طرح ہو سکتی ہے کہ ایک تو ہم پہلی بڑی تقسیم یوں کریں کہ کچھ اوامر یں اور کچھ نواری یعنی بعض جگہ تو حکم ہے کہ انسان فلاں کام کرنے کیلئے آگے بڑھے اور بعض جگہ یہ ہے کہ فلاں کام اگر سامنے آجائے تو اس سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کسی کام کے کرنے سے پیچھے ہٹنے کا نام نہی اور اس کے کرنے کے لیے آگے بڑھنے کا نام امر ہے۔ شریعت کے یہ دو بڑے بڑے ستون ہیں۔ جن میں سے ایک اوامر یعنی کچھ کام کرنے کے متعلق ہے اور دوسرا نواہی یعنی کچھ کاموں سے رکنے کے متعلق۔ یہ تو دو بڑے بڑے حصتے ہوئے اور جس طرح علماء نے علم نحو کیے ایک حصہ کا نام صرف اور دوسرے کا نام نحو رکھ دیا ہے اسی طرح اللہ تعالی کی طرف سے ایمان کی تکمیل کیلئے جو انسانوں کو اعمال کے متعلق ہدایتیں ملی ہیں ان کو دو حصوں میں منقسم کر دیا گیا ہے ۔ جن میں سے ایک حصہ کا نام او امر اور دوسرے کا نوا ہی ہے۔ پھر ان کی آگے تقسیم کی گئی ہے۔ لیکن اوامر کے بڑے بڑے حصے دو ہیں ۔ ایک وہ جو بندہ کے خدا کی مخلوق کے تعلقات کے متعلق ہیں یعنی وہ احکام شریعت جن میں بتایا گیا ہے کہ بندہ کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے کیا اور کس طرح معاملہ کرنا چاہتے ۔ اس مخلوق میں اس کا اپنا وجود بھی شامل ہے ۔ اور دوسرے تمام انسان بھی خواہ وہ کسی مذہب و ملت کے ہوں ۔ پھر ہرقسم کے جانور ملائکہ انبیاہ غرضیکہ تمام چھوٹی بڑی مخلوق شامل ہے ۔ اور دوسرا حصہ وہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ بندہ کو خدا سے کیا معاملہ کرنا چاہتے۔ یہ تو اوامر کے حصے ہوتے۔ ہ اسی طرح نواہی بھی دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک یہ کہ ایک انسان کو دوسری مخلوق سے کیا کیا