خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 378

۳۷۸ میں آگ لگ جانا خطرناک ہوتا ہے کیونکہ ایک ملک گئی ہوئی بھائی جاسکتی ہے مگر جھونپڑی جھونپڑی کلاگ کا بھانا مشکل ہوتا ہے۔ کہیں گھر گھر آگ لگنے کا نظارہ تو اب ہی شروع ہوا ہے جو ہر چشم دور بین کو خیرہ کرتا ہے کیونکہ یہ وہ زمانہ ہے۔ کہ نہ فاتح خوش ہے نہ مفتوح ، نہ غالب خوش ہے نہ مغلوب ۔ غرض وہ لوگ جن کی امیدیں صلح کے ساتھ وابستہ تھیں دیکھ رہے ہیں۔ کہ صلح بھی ایک خیال ہی ثابت ہو رہا ہے اور نظر آ رہا ہے کہ ان کی تمام اُمیدیں باس سے بدلتی جا رہی ہیں۔ یہ تمام تغیرات ثبوت ہیں اس امر کا کہ جو علاج وہ کیا جارہا ہے وہ درست نہیں اور نہ وہ علاج ہیں اس مرض کا جو دنیا کو لگا ہوا ہے کیونکہ اگر مرض جسمانی ہوتا ۔ تو جس قدر علاج مادیات سے تعلق رکھنے والوں نے کئے ۔ وہ کارگر ہوتے ہیگران علاجوں کا اُلٹا اثر ہونا ثابت کرتا ہے کہ مرض جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہے۔ کیونکہ وہ کھانے جن کو پہلے کھا کر لوگ خوش ہوتے۔ اور الحمد للہ کہتے تھے ۔ آج ان سے بہتر کھاتے ہیں۔ مگر کہتے ہیں کہ ہم بھو کے مر گئے معلوم ہوا کہ حالت اور بگڑ گئی۔ علاج سے روبہ اصلاح نہیں ہوتی ہیں جب تک اندر کا علاج نہیں ہو گا۔ یہ تمام کوششیں بے سود ثابت ہونگی ۔ وہ اندرونی حالت بدل سکتی ہے ۔ اس علاج سے جو خدا کی طرف سے ۔ نازل کیا گیا ہے۔ اور وہ احمدیت ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کوئی احمدی کہلانے والا بھی اس وقت غیر ملمن حالت میں ہو ۔ اس کی مثال ایسی ہی ہوگی کہ جس نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہوں ۔ اور روشنی کونہ دیکھتا ہو یہ باغ میں بیٹھا ہو مگر خوشبو نہ سونگھے۔ اور پھل نہ کھاتے ۔ اگر کوئی احمدی اپنی شقاوت کی وجہ سے مطمئن نہ ہو تو اس کے معنی یہی ہیں کہ اس نے وہ علاج کیا ہی نہیں ۔ غرض یہی ایک علاج ے علاج ہے جس سے دنیا میں ان قائم کیا جاسکتا ہے ۔ حاکم و محکوم کے تعلقات میں خوشگواری پیدا کی جا سکتی ہے ۔ اگر احمدیوں میں و ر احمدیوں میں سے بعض کو حالت اطمینان نصیب نہ ہو۔ اور وہ اس جنت میں نہ ہوں جو مومن کے لیے ہیں سے شروع ہو جاتا ہے تو ان کی مثال ہی ہو گی کہ بخار شدید چڑھا ہے۔ مگر کو مین جیب میں رکھ چھوڑی ہے اور اس کو استعمال نہیں کرتے یا پیاس سے بے حال ہیں اور ٹھنڈے پانی کی صراحی پاس ہے جس کو سینہ سے پیٹائے بیٹھے ہیں۔ مگر پیتے نہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے۔ جو بھوک سے مر رہا ہے۔ اور عمدہ لذیذ کھانا سرہانے رکھا ہے جس کو کھاتا نہیں پس جس طرح بیمار کی جیب میں کونین ہونا پیاسے کے پاس ٹھنڈا پانی ہونا اور بھو کے کے پاس عمدہ کھانا ہونا اس کو اس وقت تک مفید نہیں ہو سکتا جب تک وہ اسے استعمال نہ کر ہے۔ اسی طرح اگر کوئی احمدی احمدی کہلاتا ہے اور حضرت صاحب کی کتب بھی پاس رکھتا ہے، لیکن احمدیت کے مغز سے آگاہ نہیں۔ تو یہ اُس کی شقاوت ہے کہ چیز کے موجود ہوتے ہوتے اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ پس احمدیت ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے دلوں کو تسلی دی جا سکتی ہے۔ حاکم و محکوم کے تعلقات