خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 377

٣٧٧ سلسلہ درہم و برہم ہو جائے گا۔ یا یہ آقا و خادم کے تعلقات نہ رہیں گے۔ حکومت و رعایا کے موجودہ تعلق میں فرق ہوگا ۔ سیاست بدل جائیگی، موجودہ قانون بدل جائیں گے کیونکہ دنیا کا جوش ظاہر کرتا ہے کہ موجودہ طریق سے ارہ نہیں ہو سکتا۔ ایک ایک لمحہ نہیں رہتا کہ بڑی بڑی حکومتیں انقلاب کا شکار ہو رہی ہیں ۔ فوجوں میں جوش ہے۔ مشینوں والے جوش میں ہیں کہ ہمیں کافی اجرت نہیں دی جاتی - کارخانہ دار کہتے ہیں کہ ہم لٹ گئے ۔ غرض موجودہ وقت میں ہر ایک شاکی ہے اور ہر ایک گروہ اور طبقہ ایک تغیر چاہتا ہے اگر وہ تغیر نہ ہو تو موجودہ انتظام نہیں چل سکتا ۔ دانا محسوس کرتے ہیں۔ اور وہ دانا جن کی عمریں قوانین بنانے اور تدبیریں سوچنے میں ختم ہو گئی ہیں۔ وہ سب کے سب یک زبان ہیں کہ ہمارے قوانین اور ہماری تدابیر بے اثر ہیں۔ اب یہ سوال کہ وہ کیا تغیر ہوگا ؟ اگر اس کا جواب کوئی دے سکتا ہے۔ تو وہ ہم ہیں۔ لوگ سکتا۔ جو علاج کرتے ہیں۔ وہ الٹا اثر کرتا ہے۔ اور اس کی سی کیفیت ہے۔ جو کسی نے اس طرح بیان کی ہے اور مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی جتنے علاج سوچے گئے۔ اور جو علاج حکام اور فلاسفروں کی طرف سے سوچے گئے۔ وہ ایک ایک جو عا کر کے آزمائے گئے ، ان سے تباہی ہوئی ۔ بادشاہتوں کو ظلم آفریں ٹھرایا گیا تو پارلیٹیں بنائی گئیں مگران کے طریق عمل سے بھی لوگ خوش نظر نہیں آتے۔ بادشاہ شکایت کرتے ہیں کہ رعایا اچھا معاملہ نہیں کرتی ۔ نظر نہیں آتے۔ بادشاہ اور رعایا کرتی ہے کہ ہمارے ساتھ نیک سلوک نہیں ہوتا ۔ آقا اور ماتحت کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں ۔ غرض جتنے علاج بڑھتے گئے ۔ اسی قدر مرض بڑھتا گیا ۔ کوئی دن نہیں گذرتا کہ نئی سے نئی سڑا ئیں نہ ہوتی ہوں۔ اور کوئی دن نہیں جاتا کہ کارخانے بند نہ ہوتے ہوں ۔ کارخانہ دار کہتے ہیں کہ ہم اپنے سرمایہ کو خطرہ میں نہیں ڈالنا چاہتے۔ اور مزدور کہتے ہیں کہ ہم فاقہ مرینگے مگر خدمت نہ کرینگے، یہ کیا غیر ہے۔ اور اس سے کیا ہونے والا ہے۔ سو یا د رہے کہ اس کا علاج انسانی عقل سے نہ ہو گا ۔ اب اگر امن ہوگا اور دنیا مطمئن ہوگی تو اس انتظام سے ہوگئی۔ جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو گا ۔ اور اس انسان کے ذریعہ ہوگی۔ جو خدا کی طرف سے آیا ہے۔ دنیا کا ایک بڑا معیار یہ تھا کہ جنگ نہ ہو۔ چالیس پچاس برس سے یہ آواز بلند ہو رہی تھی کہ امن نہیں ہو سکتا ۔ جب تک آپس میں صلح نہ ہو۔ مگر اس صلح کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ایسی جنگ ہوتی کہ دنیا اس کی نظیر دنیا کی نہیں پیش کر سکتی ، فرض اتنا فساد بڑھا جس کی نظیر نہیں، لیکن اب اگر چہ جرمن کی جنگ ختم ہوگئی ہے۔ دیگر یاد رکھو کہ اگر ایک بڑے محل کو آگ لگ جاتے تو وہ زیادہ خطرناک نہیں ہوتی ۔ جتنا کہ جھونپڑی جھونپڑی