خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 374

۳۷۴ تو یاد رکھ کوئی اعلی کا اعلی نہیں جب تک اسکے ساتھ نیت بھی اعلی نہ ہو۔ آپ لوگوں کو چاہیئے کہ آپ نیت نیک کریں ۔ اگر آپ اس نیت نیک کیسا تھ ایک دوسرے سے بڑھیں گے۔ اور خدا کی رضا حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرینگے تو عین خدا کے منشاء کے ماتحت ہو گا اور یہی مطلب ہے آیت فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ (المطففين : ۲۷) کا اور اسی طرح دوسری آیت میں فرمایا : فاستبقوا الخيرات (البقرہ : ۱۳۶) مینی نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرو۔ بی یکن اگر کوئی شخص لوگوں میں بڑا بننے کے لیے زیادہ چندہ دیتا ہے ۔ تو یہ ہلاکت اور تباہی ہے۔ اگر کوئی شخص نماز کے چار نوافل کی بجائے آٹھ پڑھتا ہے۔ اور اس سے اس کی غرض یہ ہے کہ لوگ اس کو بر نمازی خیال کریں ۔ تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور سخت گناہ کا ارتکاب کیا۔ اور خدا کے عذاب کو اپنے سر کر لیا لیکن اگر کوئی شخص چار نوافل کی بجائے آٹھ نوافل خدا کی رضا کے لیے پڑھتا ہے تو یہ ایک بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔ کے نتا پس لندن می میں مسجد احمدی احمدیہ تعمیر کی تعمیر کا کاکام کام اعلیٰ اور بہت ہی اعلیٰ درجہ کا کام ہے ۔ اور انشاء اللہ اس تاریخ بھی اعلی درجہ کے ہونگے مگر ہر ایک فرد جو مسجد کے لیے کچھ دے۔ اس کو اپنی نہ اپنی نیست کو نیک رکھنا چاہیتے۔ وہ اپنے اندر اخلاص پیدا کرے ۔ اور اس کی غرض محض خدا کی رضا ہو محض تبلیغ اسلام ہو۔ محض اعلاء کلمۃ اللہ نیت ہو کہ خدا کا نام بلند مناروں سے لیا جائے ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ اگر نیت نیک نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ پس جہاں میں اس کام میں حصہ لینے کی زور سے تحریک کرتا ہوں ۔ اسی طرح میں اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ نیت نیک کریں ۔ اتنے بڑے کام کے لیے نیست کی نیکی کا سوال اہم سوال ہے ۔ اگر بڑے کاموں کو نیت نیک لے کر نہ کیا جائے تو ان کا اجر نیک نہیں مل سکتا ہیں اس کام میں خدا کی رضا کے سوا اور کوئی غرض مد نظر نہیں ہونی چاہیتے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ کام خدائی رضا کے ماتحت ہو رہا ہے۔ مجھے آج تک تین اہم معاملات میں خدا تعالیٰ کی رویت ہوتی ہے ۔ پہلے پہل اس وقت کہ ابھی میرا بچپن کا زمانہ تھا۔ اس وقت میری توجہ کو دین کے سیکھنے اور دین کی خدمت کی طرف پھیرا گیا۔ اس وقت مجھے خدا نظر آیا۔ اور مجھے تمام نظارہ حشر و نشر کا دکھایا گیا۔ یہ میری زندگی میں بہت بڑا انقلاب تھا۔ دوسرا وہ وقت تھا کہ جماعت کے لوگ ایسے نقطہ کی طرف جا رہے تھے کہ قریب تھا کہ وہ کفر میں چلے جائیں ۔ اور اس بات کی طرف لے جانے والے وہ لوگ تھے۔ جو سلسلہ کے دنیاوی کاموں پر قابو پائے ہوئے تھے۔ مثلاً صدر انجمن وغیرہ انہی کے ماتحت تھیں ۔ اور یہ لوگوں میں بڑے بڑے نظر آتے تھے