خطبات محمود (جلد 6) — Page 372
٣٧٢ نے دیدیا ہے۔ اور یہ خوشی کی بات ہے۔ اور اس بات کا ثبوت ہے، کہ مرکز کی جماعت اخلاص میں پیچھے نہیں ۔ آگے ہے۔ اور یہ ایک اصول ہے کہ جو جماعتیں قائم رہنے والی ہوتی ہیں۔ ان کے مرکزوں میں اخلاص ہوتا ہے ۔ اور اخلاص مرکز سے ہی نکلا کرتا ہے ۔ اور جب جماعتیں بگڑا کرتی ہیں۔ تو مرکزوں میں ہی خرابی پیدا ہو جایا کرتی ہے بیس مرکزہ ہی اخلاص اور برکات کا موجب ہوتے ہیں۔ اور مرکہ ہی ہلاکت اور تباہی کا باعث ہو جایا کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا خاص فضل ہے، کہ اس نے ہمارے مرکز میں اخلاص کا زنگ پیدا کیا ہے۔ تو سہی رو جو بیاں ہے ۔ اگر ساری جماعت میں پیدا ہو جاتے ۔ تو تمہیں ہزار کیا ہیں لاکھ کا جمع ہو جانا کچھ بھی مشکل نہیں، لیکن خدا جن کے لیے چاہتا ہے۔ اپنی خاص تقدیر کو جاری کرتا ہے اس لیے میں نہیں جانتا کہ یہ خدا کی عام تقدیر ہے جو تمام جماعت کے لیے ہے یا خاص جو محض قادیان کے لیے ہے۔ اب دوبارہ اس امر کی طرف توجہ دلانے کی وجہ یہ ہے کہ جو اس تحریک کو نہیں سن سکے ہن نہیں اور اپنے اپنے دیہات میں اخلاص سے یہی تحریک کریں۔ اور جہاں تک ہو سکے اس کو عملی جامہ پہنانے میں جلدی کریں ۔ در حقیقت جس انداز سے یہ کام شروع ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریک کامیاب ہوگی ، لیکن میں ان تمام دوستوں کو جنھوں نے قادیان سے۔ مادیان سے حصہ لیا، اور جو باہر سے اس میں حصہ لیں گے ۔ اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہر ایک کام اپنے ظاہری اسباب سے ہی کامیاب نہیں ہوا کرتا، بلکہ اس کے لیے کچھ باطنی اسباب بھی ہوتے ہیں ، جہاں قادیان والوں نے اخلاص سے چندہ جمع کیا ہے ۔ ان کو چاہتے ، کہ صالح نیت بھی حاصل کریں یہ مت سمجھیں کہ انہوں نے روپیہ دیدیا اور بیس کیونکہ محض روپیہ جمع کرنا کوئی بات نہیں ۔ دنیا دار بھی جمع کر لیا کرتے ہیں۔ اور کثرت جمع کر لیتے ہیں۔ لوگ شادیوں میں بے دریغ روپیہ خرچ کرتے حتی کہ مکان اور جائیدادیں تک پہنچ ڈالتے ہیں۔ اور روپیہ دینے اور جمع کرنے کی مثالیں بدترین لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اور ایسے لوگوں میں بھی جو خدا سے بالکل دور ہوتے ہیں پس محض روپیہ جمع کر لینا اور جی کھول کر چندہ دنیا خوشی کی بات نہیں۔ اصل قابل غور یہ سوال ہے کہ روپیہ دیا کس نیت سے ہے بعض دفعہ کام نیک ہوتا ہے ۔ اور جوش و خروش سے کیا جاتا ہے۔ مگر نیت نیک اس کے شامل نہیں ہوتی ۔ ایک جنگ کے موقع پر مسلمانوں کی حالت نازک ہوگئی اور کفر کا پہلو طاقتور تھا۔ اس وقت مسلمانوں کی طرف سے ایک شخص میدان میں نکلا ۔ وہ ہر نازک موقع پر گیا ۔ اور اس کو ہر جگہ کامیابی حاصل ہوتی مسلمانوں کی نظریں اسی کی طرف لگ رہی تھیں وہ جدھر جاتا کفار پسپا ہو جاتے مسلمانوں کی طرف سے تحسین و آفرین کی سے