خطبات محمود (جلد 6) — Page 371
٣٤١ لگا ہے اور اونچی دیواریں بھی کھڑی کر دے مگر ان دیواروں پر چھت نہ ڈالے تو اس کا نتیجہ میں ہوگا کہ وہ دیواریں گر جائینگی ۔ پس جہاں خرچ ہو چکتا ہے اس سے نتائج حاصل کرنے کے وقت خاص قسم گر جبا کی کوشش اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور ایسی حالت میں جو بھی خرچ ہو وہ کرنا پڑتا ہے ۔ اگر الیا کی نہ کیا جائے تو پہلا خرچ بھی ضائع ہو جاتا ہے ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک زمیندار ایک کھیت تیار کرتا ہے۔ اس میں ہل چلاتا اور سہاگہ پھیرتا ہے ۔ اور سہاگہ پھیرتا ہے۔ پھر اس میں بیج ڈالتا ہے۔ اور مہینوں اس پر محنت کرتا اور پانی دیتا ہے ، لیکن ایک وقت آتا ہے کہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر بارش بند ہو جاتی ہے ایسی حالت میں زمیندار خرچ کی مطلق پروا نہیں کریگا ۔ بلکہ دو گنا تگنا خرچ کر کے بھی پانی اپنے کھیت کو دلوائے گا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے۔ کہ اگر اس وقت پانی کھیت کو نہ دیا گیا ۔ تو وہ تمام محنت اور تمام رقم ضائع ہو جائیگی ۔ جو اس وقت تک کھیت کی تیاری میں صرف کی گئی ہے۔ اگر کوئی ایسا نہ کرے۔ تو اس کے لیے قرآن کریم میں ایک مثال بیان کی گئی ہے۔ مثلاً ایک بڑھیا گرمی کے موسم میں سوت کا تنی ہے ۔ اس لیے کہ سردی میں اس سے کپڑے بنائے گی مگر جب کایت کر تیار کر لیتی ہے اور وقت سردی کا آتا ہے۔ تو بجائے اس سوت کو عمدہ مصرف میں لانے کے قیچی لے کڑ کڑے ٹکڑے کر دیتی ہے ۔ پس اسی طرح ہم نے ولایت میں تبلیغ کے لیے روپیہ خرچ کیا ہے ۔ اب اس کا نیک نتیجہ کے نکلنے کیلئے ان اسباب کا مہیا کر نا ضروری ہو گیا ہے۔ جس سے وہ کام مستحکم اور اس کام کے عمدہ تاریخ برآمد ہوں اور اس کے لیے اس ضرورت کو محسوس کیا گیا ہے کہ لندن میں ایک مسجد تیار کی جائے ۔ علاوہ اس بات کے اور بھی ضروریات ہیں۔ اول یہ کہ وہ کفر کا مرکز ہے ۔ اس کے مقابلہ میں حبب تک ہماری وہاں مسجد نہ ہو ۔ کام کامیابی کے ساتھ نہیں ہو سکتا اور یہ درست بات ہے ، کہ جہاں مساجد تعمیر کی جاتی ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی خاص برکتیں نازل ہوتی ہیں۔ نیز جیسا کہ میں نے بتایا وہاں اب تک جماعت کا جس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے ۔ اب ایسے سامانوں کا مہیا نہ کرنا اپنے اس تمام روپیہ کو ضائع کرنا ہے ۔ اور اس کے یہ معنے ہونگے کہ ہم نے ایک لغو اور بے معنی کام کیا۔ جو مومن کی شان سے بعید ہے۔ اور مومن کا مال نہایت قیمتی ہوتا ہے ۔ اس لیے اس کی حفاظت بہت ضروری تی ہے۔ پس وہاں مسجد کا ہونا آئیندہ نیک نتائج کے نکلنے کے لیے ضروری ہے ۔ تاکہ مستقل طور پر وہاں جماعت کی بنیاد قائم ہو جائے۔ میں نے اس تحریک کو اولاً یہاں کے دوستوں کے آگے پیش کیا۔ چنانچہ اب تک گیارہ ہزار روپیہ چندہ ہو چکا ہے۔ گویا ساری دنیا کے احمدیوں کے لیے جسقدر چندہ رکھا گیا ہے۔ اس کا تیسرا حصہ قادیان