خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 371

ند لگا ہے اور اونچی دیواریں بھی کھڑی کر دے مگر ان دیواروں پر چھت نہ ڈالے تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ دیواریں گر جائینگی۔پس جہاں خرچ ہو چکتا ہے اس سے نتائج حاصل کرنے کے وقت خاص قسم کی کوشش اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔اور ایسی حالت میں جو بھی خرچ ہو وہ کرنا پڑتا ہے اگر الیا نہ کیا جائے تو پہلا خروج بھی ضائع ہو جاتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک زمیندار ایک گھیت تیار کرتا ہے۔اس میں ہل چلاتا اور سہاگہ پھیرتا ہے۔پھر اس میں بیج ڈالتا ہے۔اور مہینوں اس پر محنت۔کرتا اور پانی دیتا ہے ، لیکن ایک وقت آتا ہے کہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے مگر بارش بند ہو جاتی ہے ایسی حالت میں زمیندار خرچ کی مطلقی پروا نہیں کریگا۔بلکہ دگنا گنا خرچ کر کے بھی پانی اپنے کھیت کو دلوائے گا۔کیونکہ وہ جانتا ہے۔کہ اگر اس وقت پانی کھیت کو نہ دیا گیا۔تودہ تمام محنت اور تمام رقم ضائع ہو جائیگی جو اس وقت تک کھیت کی تیاری میں صرف کی گئی ہے۔اگر کوئی ایسا نہ کرے۔تو اس کے لیے قرآن کریم میں ایک مثال بیان کی گئی ہے۔مثلاً ایک بڑھیا گرمی کے موسم میں سوت کا تنتی ہے۔اس لیے کہ سردی میں اس سے کپڑے بنائے گی مگر جب کایت کر تیار کر لیتی ہے اور وقت سردی کا آتا ہے۔تو بجائے اس سوت کو عمدہ مصرف میں لانے کے قیچی لے کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔پس اسی طرح ہم نے ولایت میں تبلیغ کے لیے روپیہ خرچ کیا ہے۔اب اس کا نیک نتیجہ کے نکھنے کیلئے ان اسباب کا مہیا کرنا ضروری ہو گیا ہے جس سے وہ کام مستحکم اور اس کام کے عمدہ نتائج برآمد ہوں اور اس کے لیے اس ضرورت کو محسوس کیا گیا ہے کہ لندن میں ایک مسجد تیار کی جائے۔علاوہ اس بات کے اور بھی ضروریات ہیں۔اول یہ کہ وہ کفر کا مرکز ہے۔اس کے مقابلہ میں جب تک ہماری وہاں مسجد نہ ہو۔کام کامیابی کے ساتھ نہیں ہو سکتا اور یہ درست بات ہے ، کہ جہاں مساجد تعمیر کی جاتی ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی خاص برکتیں نازل ہوتی ہیں۔نیز جیسا کہ میں نے بتایا وہاں اب تک جماعت کا جس قدر روپیہ خرچ ہوا ہے۔اب ایسے سامانوں کا میا نہ کرنا اپنے اس تمام روپیہ کو ضائع کرنا ہے۔اور اس کے یہ معنے ہونگے کہ ہم نے ایک لغو اور بے معنی کام کیا۔جو مومن کی شان سے بعید ہے۔اور مومن کا مال نہایت قیمتی ہوتا ہے۔اس لیے اس کی حفاظت بہت ضرورتی تی ہے۔پس وہاں مسجد کا ہونا آیندہ نیک نتائج کے نکلنے کے لیے ضروری ہے۔تاکہ مستقل طور پر وہاں جماعت کی بنیاد قائم ہو جائے۔میں نے اس تحریک کو اولاً یہاں کے دوستوں کے آگے پیش کیا۔چنانچہ اب تک گیارہ ہزار روپیہ چندہ ہو چکا ہے۔گویا ساری دنیا کے احمدیوں کے لیے جبقدر چندہ رکھا گیا ہے۔اس کا تیسرا حصہ قادریان