خطبات محمود (جلد 6) — Page 356
۳۵۶ ہاتھ میں ہے یعنی انجام کے لحاظ سے بھی ہم میں اتحاد ہے اس کے نتیجہ میں فرمایا کہ تم ایک ہو جاؤ۔ایسے کہ لوگ تو کہتے ہیں۔جیسے ایک جان اور دو قالب، لیکن تمہارے ہزاروں لاکھوں کروڑوں جسم ہوں، مگر جان ایک ہو۔وہ اس طرح کہ آگے آتا ہے۔ایاک نعبد۔اے خدا ہم سب تیرے ہی عابد ہیں۔یہاں پر انسان تمام دنیا کا قائم مقام ہو جاتا ہے اور اپنی عبادت کو تمام دنیا کی عبادت قرار دیتا ہے۔اس کے بچے سوئے پڑے ہیں۔بیوی آرام میں ہے بھائی بھی فاضل ہیں مگر وہ کہتا ہے کہ خدایا میری عبادت ان سب کی ہے مگر یہ بڑی بات نہیں۔اس وقت تک جب تک امتحان نہ ہو جائے کہ واقعی کہنے والا اپنی عبادت کو دوسروں کی عبادت قرار دے رہا ہے۔چنانچہ اس کے لیے مومن آگے کہتا ہے۔وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينَ اے خدا میری عبادت سب کی عبادت ہے۔اور جو کچھ تو میری مدد فرمائے۔وہ ان سب کو مدد دے بعض لوگ یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارا مال تمہارا مال لیکن جب فائدہ پہنچانے کا سوال ہو تو اپنے اس قول میں جھوٹے ثابت ہوتے ہیں، لیکن مومن کہتا ہے کہ اسے خدا۔استعانت بھی میں ہی نہیں چاہتا۔میرے دوسرے بھائیوں کو بھی دے، لیکن اور وں کو جانے دور تم احمدی آپس میں کیا ایک دوسرے کی مدد کرتے ہو۔ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ایک شخص کے ہاں چور آتے تھے۔اس نے مجھے لکھا تھا کہ میں نے شور مچایا غیر احمدی اور ہند و جمع ہو گئے۔مگر سوائے دو احمدیوں ے اور کوئی نہ پہنچا۔جن میں سے ایک بھائی عبدالرحمن صاحب تھے۔ایک کوئی اور میں نے اس پر توجہ دلائی تھی۔لیکن آج جب میں جمعہ کے لیے گھر سے نکلا تو مجھے ایک اور رقعہ ملا جس میں لکھا ہے کہ ایک کے ہاں چور آئے۔اس نے شور مچایا۔اس وقت بھی دو احمدی مدد کو گئے۔باقی محلہ میں سے کوئی شخص مدد کو نہ آیا۔چوروں کے پاس ہتھیار بھی تھے۔ممکن تھا کہ وہ قتل بھی کر دیتے۔باقی گھروں سے اگر آوازہ آئی تو یہ کہ کیا ہے۔میاں کیا ہے۔اتنا نہیں سمجھے کہ سردی میں رات کے وقت جو شور مچانے لگا ہے۔وہ کوئی پاگل تو نہیں۔ضرور کوئی بات ہوگی۔اگر کوئی سویا رہتا ہے تو خیر وہ مجبور بھی ہے۔اگر چہ اس کی یہ عجیب نیند ہے، لیکن پھر بھی وہ ایک حدتک مجبور ہے، مگر جو جاگتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا ہے وہ جان کے خوف سے ڈرتا ہے۔اس کے لیے تو یہ قابل شرم بات ہے۔مومن کو اتنی جان عزیز نہیں ہونی چاہیئے۔کیونکہ موت تو ایک پردہ ہے۔جو خدا اور اس کے درمیان حائل ہے۔مومن بزدل کیوں ہو۔مومن اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے۔اس لیے کہ دین کی خدمت کرے مگر ایسے موقع پر تو نکلنا چاہیئے۔اگر ایسے وقت میں جب ضرورت ہو نکلنے کی بیٹھا رہے۔تو وہ خدا سے محبت کی بجائے جان سے محبت رکھتا ہے۔پس اگر خدا کی محبت کے دعویٰ میں سنچا ہے اور پیچھے دل سے اس کو قبول کرتا ہے تو اس کو اس قدر بزدل نہیں ہونا چاہیئے۔