خطبات محمود (جلد 6) — Page 351
۳۵۱ یہ مہمان نوازی نہیں کہ مہمان سے ایسے طریق سے سلوک ہو کہ جس سے ظاہر ہو ۔ کہ ہم اس پر احسان کرتے ہیں۔ مہمان کو اعزاز دینا چاہیتے ۔ کیونکہ خدا نے مہمان کو عزت کا درجہ دیا ہے ۔ اس لیے کے ** مہمان کے خوش کرنے کی کوشش کرنی چاہیتے ۔ ابراہیم ابوالانبیار ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جد امجد ہیں۔ اگر وہ مہمان فرشتہ بھی تھے ۔ تاہم ابراہیم خدا کے نبی تھے ۔ اور اگر وہ انسان تھے تو بھی حضرت ابراہیم سے نیچے تھے۔ مگر وہ مہمان ہو کر ابراہیم کے لیے مکرم ہو گئے ۔ اس لیے کوئی مہمان ہو فطرت کے اقتضاء شریعت کے منشاء کے ماتحت مہمان کی عزت ہی کرنا چاہیئے ۔ مہمان کی سخت بات کی برداشت کرنی چاہیتے بعض لوگ کہدیا کرتے ہیں کہ مثلاً اب کھانا نہیں ملتا ۔ دیر سے کیوں آئے ۔ یا کھانے آتے ہو یا سننے بیسیوں قسم کی باتیں لوگ مہمان کا رتبہ سمجھنے کی وجہ سے کہ گزرتے ہیں ۔ ذی وجاہت لوگوں کی عزت و توقیر ہی مهمان نوازی نہیں۔ کیونکہ یہ لوگ تو جہاں بھی جائیں گے ان کی عزت ہوگی ۔ غرباء کی عزت کرنا حقیقی می مهمان نوازی ہے۔ اگر کوئی غریب ماشکی ہے یا موچی ہے یا اور اسی قسم کا پیشہ ور شخص ہے۔ تو چاہیئے کہ اس کی عزت کی جائے۔ اور اگر اس کی عزت کی جائیگی ۔ تو وہ خدا کے حکم کے ماتحت ہوگی ۔ اگر امیر کی عزت کی جائیگی۔ تو اس کو اکرام ضیف نہیں کہ سکتے کیونکہ امراء کی عزت تو دنیا دار بھی کیا کرتے ہیں۔ اور یہ یاد رکھنا چاہتے کہ اکرام ضعیف صرف کھانے پینے میں ہی نہیں ہوتا بلکہ ہر قسم کے معاملات میں ہوتا ہے ۔ امراء چونکہ اپنے گھروں میں اچھا کھانا کھاتے ہیں۔ اس لیے ان کے کھانوں میں اگر کسی عمدہ چیز کا اضافہ کیا جائے ۔ تو ہونا چاہیتے ۔ یہ بات حضرت اقدس کے سامنے پیش ہوئی تھی ۔ آپ نے فرمایا ۔ کہ خدا نے بتایا ہے کھانے پینے میں ہی اکرام ضیف نہیں ، عام برناؤ اور ظاہری سلوک میں بھی یہ بات ہے۔ ایک غریب دال پر خوش ہو جاتا ہے۔ اگر اُس کو خندہ پیشانی کے ساتھ دی جائے۔ لیکن کسی کو کھانا عمدہ دیا جائے۔ مگر برتاؤ اچھا نہ ہو تو وہ اچھا کھانا اس کے دل کو خوش نہیں کر سکتا ۔ پس احترام کرنے میں امیر غریب کی تمیز نہیں ہونی چاہیتے ۔ سب کی عزت کی جائے ۔ امیروں کی عزت کرنا عزت کرنا نہیں۔ کیونکہ وہ تو ہر جگہ اپنی عزت کرا لیتے ہیں پیس میں نصیحت کرتا ہوں ۔ کہ آپ لوگوں میں سے جو دوست اپنے تئیں خدمت کے لیے پیش کر سکیں ۔ وہ خود تکلیف اُٹھا کر کام کریں تا کہ خدا کے فضل کے وارث ہوں ۔ اور اس فرض کو بھی ادا کریں جو خدا اور فطرت کی طرف سے آپ پر عائد پر عائد ہوتا ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمام بھائیوں اور دوستوں کو اس خدمت کے ادا کرنے کی توفیق دے۔ آمین ۔