خطبات محمود (جلد 6) — Page 327
۳۲۷ (61) حضرت میں موجود کے اولین خدام کی قدر کرو فرموده ۲۴ اکتوبر ۱۹ ه ) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ :۔ کسی شخص نے نہایت دانائی بھری بات کہی ہے کہ جو شخص ابتداء کرتا ہے۔ اسی کو فضیلت حاصل ہوتی ہے ۔ کیوں ، اسلئے کہ جو شخص ابتدا کرتا ہے اس کے رستہ میں جس قدر مشکلات ہوتی ہیں۔ اس کا علم دوسرے کو نہیں ہو سکتا۔ نئے کام میں بیسیوں روکا دئیں ہوتی ہیں جن کا کسی کو علم نہیں ہوتا۔ اور جب کوئی شخص اس کام پر ہاتھ ڈالتا ہے۔ تب اس کو علم ہوتا ہے کہ اس رستے میں کیا گیا وقتیں اور دو کا میں ہیں۔ بعض دفعہ شکلات دیکھتا ہے ۔ ان کو محنت سے دور کر کے اُن پر قابو پا کر کامیاب ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ کوشش کرتا ہے اور ناکام رہتا ہے۔ بعد میں آنے والے لوگ اس تجربہ سے فائدہ اُٹھا لیتے اور معلوم کر لیتے ہیں کہ اس کے کام میں فلاں فلاں غلط طریقے اختیار کئے گئے تھے۔ جونا کامی کا باعث ہوتے ہیں ۔ ان کو ترک کرنا چاہیے۔ اور فلاں طریق سے کامیابی ہوتی ہے۔ اُسے اختیار کرنا چاہتے ۔ اس طرح ابتدا کرنے والا ہے شخص جہاں اپنے نقصان سے دوسروں کے نفع کا موجب ہو جاتا ہے، وہاں وہ دوسروں کے۔ وہ دوسروں کے لیے بطور استاد کے بھی ہوتا ہے۔ اور دوسرے اس کے شاگرد ہوتے ہیں۔ پس ہر ایک کام میں ابتدا نہ کرنے والوں کو دوسروں پر فضیلت حاصل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ وہ لوگ تمام تکلیفیں اٹھا کر راستہ کو صاف کر دیتے ہیں۔ اس مسئلہ کی خدا تعالے نے بھی جو تمام علموں کو پیدا کرنے والا ہے ۔ تصدیق کی ہے۔ اور اس کی تصدیق کے بعد کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہتی ۔ ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں نے ابتداء میں رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کومانا۔ ان کی نسبت قرآن کریم میں بہت سے تعریفی کلمات وارد در ہیں اور اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے جو لوگ ہو چکے ہیں۔ ان کے متعلق بھی حکم ہے ۔ فَبِهُداهُمُ اقْتَدِها (الانعام : ۱۱) اسی طرح ان له التوبة : 14