خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 314

ام الله کو بھیج دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اس شخص کے ذریعہ اپنی حکومت منواؤوں گا۔ وہ لوگ اس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ہم سے ادنی ہے ذلیل ہے۔ نہ اس کے پاس دولت ہے نہ جتھا ہے نہ حکومت ہے خدا کہتا ہے کہ ہاں میں اسی کے ذریعہ منواؤں گا۔ اور بالآخر دنیا کو اس کی اطاعت قبول کرنی پڑتی ہے اس لیے کہ وہ قدیم و قدیر اور خالق و مالک شہنشاہ کی طرف سے بادشاہ ہوتا ہے۔ اور اس کا قائم مقام ہوتا ہے۔ اس لیے اس کے احکام کے آگے بھی نہیں نہیں سنی جاتی۔ مانیا جسمانی اور روحانی حکومتوں میں یہ فرق ہوتا ہے۔ روحانی احکام کے نیچے نہیں نہیں سنا جاتا ، لیکن دنیاوی معام معاملات میں نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ دنیاوی معاملات میں ایک حد تک افراد کی آزادی میں حکومت دخل نہیں دے سکتی۔ مگر روحانی حصہ میں کسی شخص کو اختیار نہیں کہ انکار کرے کیونکہ روحانی حکومت اوپر سے آتی ہے۔ دنیا کے بادشاہ حقیقی بادشاہ نہیں ، لیکن خدا حقیقی بادشاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں دیکھتے ہیں کہ کوئی حکومت جب کسی شخص کو کس کام پر مقرر کرتی ہے۔ وہ کہ دیتا ہے کہ می نہیں - قانون بنا کر لاؤ۔ یہ حکم محض شخصی ہے۔ اور شخصی سوال ہے۔ اس لیے نہیں مانتے۔ پھر کام کرتے کرتے استعفیٰ پیش کر دیتے ہیں یا کہدیتے ہیں۔ جاؤ ہم نہیں کر سکتے۔ استعفیٰ کے معنے طلب عفو کے ہیں کہ مجھے معاف فرمایے، لیکن دنیاوی حکومتوں میں استعفیٰ کے معنے وہ نہیں ہوتے جو عربی میں ہیں۔ بلکہ پنجابی معنے ہوتے ہیں کہ جا میاں معاف کر عربی میں تذلیل کا مفہوم اس کے معنوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن پنجابی یا اردو میں اسکے یہ معنے نہیں۔ بلکہ اس کے معنے ہوتے ہیں کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے ۔ جاؤ سر نہ کھاؤ۔ معاف کرو بس اب : اب زیادہ پریشان نہ کرو۔ ہم کام چھوڑ کر چلے جائیں گے ؟ اس کے مقابلہ میں شرعی حکومت میں استعفیٰ کا قانون نہیں ۔ حکومت کے ماتحت وہ کام کرتے ہیں۔ جوان کو پسند ہوتے ہیں، لیکن شریعت میں یہ نہیں ہوتا ، کہ وہ کام کریں جو لوگوں کو پسند ہو، بلکہ وہ کرنا پڑتا ہے جس کا شریعت حکم دے اور اس شخص کا حق نہیں ہوتا کہ وہ جواب دے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کو کمانڈر انچیف مقرر کیا۔ یہ نہیں کہ وہ اہلیت زیادہ رکھتے تھے ۔ بلکہ وہ ایک حکم تھا۔ جس کی اطاعت اسامہ پر فرض تھی ۔ اسامہ نے بھی انکار نہیں کیا ، اور اسامہ کے ماتحت عمر اور عمرو بن العاص جیسے شخصوں کو کر دیا ۔ جن کے نام سے ایشیاء کے لوگ تھرا اٹھتے تھے اسامہ ان سے بڑا نہ تھا۔ نہ اپنی سپا ہیا نہ قابلیت میں ان لوگوں سے بڑا تھا کہ وہ اس لحاظ سے اس عید سے کا مستحق تھا۔ اس کو تو اپنے نفس میں فکر ہوگی کہ یہ اتنے بڑے بڑے لوگ کیوں میری بات ماننے لگے ۔ وہ تو اُسے ایک ابتلاء اور آزمائیش خیال کرتا ہوگا ۔ مگر وہ اس کو رد نہ کر سکتا تھا۔ سنہاس