خطبات محمود (جلد 6) — Page 313
مگر دینی حکومت اس کے خلاف ہے۔یہ حکومت نیچے سے اور پر کونہیں بلکہ اوپر سے نیچے کو جاتی ہے۔دینی حکومت میں درخواست نہیں کی جاتی حکم دیا جاتا ہے خدا کی طرف سے حکم آتا ہے کہ یہ کام کرو۔وہاں حکم دیا جاتا ہے، کہ اس طرح کرنا ہوگا۔خدا کا فرمان ہے کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے۔اس لیے ایسا کرو۔تمہارا فرض ہے کہ مانو ہم نے تمہیں ہی نہیں تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا۔پس تم ہمارے اس حکم کو مانو۔اور ہمارے حکم پر ایمان لاؤ ہم تمہیں رزق دیتے ہیں۔تمہاری حفاظت کرتے ہیں۔اور تمہاری دیگر ضروریات کو مہیا کرتے ہیں پھر تمہاری آئندہ نسلوں کو پیدا کرینگے۔ان کی حفاظت کرینگے۔تمہاری پیدائش ہمارے قبضہ میں ہے۔تمہاری زندگی ہمارے قبضہ میں ہے اور تمہارا مرنا بھی ہمارے قبضہ میں ہے اور پھر مرنے کے بعد بھی تم ہمارے قبضہ سے باہر نہ ہو گے۔اور تمہارا میں سے تعلق رہے گا پس کیا بلحاظ حسن کے اور کیا بلحاظ احسان کے۔ہم جس طرح تمہیں حکم دیں۔اسی طرح تمہیں کرنا ہوگا۔اور ہم جیس طرح چاہیں تم سے سلوک کریں سوال کے طور پر نہیں۔اور عرض کی شکل میں نہیں۔بلکہ مالکانہ اور خانقانہ رنگ میں اعلان ہوتا ہے کہ اس کی فرمانبرداری اور اطاعت اختیار کرو۔یہ وہ بادشاہ نہیں جس کو تم منتخب کرتے ہو۔بلکہ وہ جب سے بادشاہ ہے کہ تم نہ تھے۔وہ جب سے بادشاہ ہے، جب تمہارے باپ دادا نہ تھے۔وہ جب سے بادشاہ ہے۔جبکہ تمہارے باپ دادا ہی نہیں ابو البشر آدم بھی پیدا نہ ہوا تھا۔وہ بادشاہ ہے جب سے زمین نہ تھی وہ بادشاہ ہے جبکہ وہ باریک درس بھی نہ تھے۔جن سے زمین پیدا ہوتی ہے۔پھر اس کی حکومت ہمارا منتخب ہونے کی وجہ سے نہیں۔اور وہ ہمارا نائب ہو کر ہم پر حکومت نہیں کرتا۔ہم نے جو کچھ حاصل کیا۔اسی سے حاصل کیا۔اس لیے اسکے حکم مقتدرانہ ہوتے ہیں کہ ہم یہ حکم ناندل کرتے ہیں۔اس کی اطاعت کرو۔پس یہ رنگ اور ہے اور وہ اور دنیاوی حکومتوں میں خواہ کام جبر آلیے جائیں۔خواہ مرضی سے، لیکن عرفاً اور عقلاً وہ حکومت ہوتی رعایا کی ہے۔حکومت کو جس قدر اختیارات ملتے ہیں۔وہ سب کے سب نیچے سے ہی ملتے ہیں۔خواہ ان کی حقیقی اور دلی مرضی سے خواہ ظاہری سے۔مگر ہر حال وہ حکومت لوگوں کی رضا کے ماتحت نہیں ہوتی۔اگر سب کے سب لوگ انکار کر دیں۔تو کوئی بادشاہ ان سے اپنی حکومت نہیں منوا سکتا، کونسی حکومت ہے، جو ایسے لوگوں پر حکومت کر سکے، لیکن خدا کی حکومت کی یہ حالت نہیں۔اگر سب کے سب لوگ اس کی خدائی ماننے سے انکار کر دیں۔تو وہ اپنی خدائی کو نہیں چھوڑے گا۔بلکہ وہ کہے گا۔تم انکار کرتے ہو۔میں تم سے منواتا ہوں۔دنیا نے انکار کیا۔اس نے کہا کہ منوا کے چھوڑوں گا۔وہ اپنی حکومت کی شان کو بڑھانے کے لیے لوگوں میں سے ہی ایک شخص