خطبات محمود (جلد 6) — Page 312
۳۱۳ 59 مفوضہ دینی کام کو مرتے دم تک کرو ۱۹۱۹ (فرموده ۱۰ راکتوبر (199) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلادت کے بعد فرمایا کہ 1- میں آج آپ لوگوں کو ایک نہایت اہم معامہ کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔قادیان کے لوگوں کے لیے تو یہ بات نہایت ضروری ہے ہی، لیکن باہر کے لوگوں کے لیے بھی اس کی ضرورت میں شبہ نہیں۔آسمانی سلسلوں کی ترقی کے ساتھ ان کے کاموں میں ترقی ہوتی ہے۔اور پھر اسی طرح کام کرنے والوں کی ضرورت پیش آتی ہے دنیا وی سلسلوں اور حکومتوں میں حکومت نیچے سے اوپر کو جاتی ہے۔اس لیے اصل حاکم اور مختار رعایا ہوتی ہے۔اور رعایا کے افراد کا حق ہوتا ہے کہ جس کام میں چاہیں۔حصہ ہیں۔اور جس میں چاہیں نہیں۔نہ انہیں کوئی مجبور کر سکتا ہے۔نہ ان کے کام میں حصہ نہ لینے پر کوئی اعتراض ہو سکتا ہے۔مگر باوجود اس کے بعض وقت ایسے ہوتے ہیں کہ افراد کی آزادی خطرے میں ہوتی ہے۔اس وقت کے لیے ہمیشہ سے یہ قانون چلا آیا ہے کہ اس وقت افراد کی آزادی کی پروا نہیں کی جاتی، بلکہ اس وقت جبری حکومت کی جاتی ہے۔جیسے پچھلی جنگ میں جبکہ آزادی خطرے میں تھی۔اس وقت اگر مقابلہ کرنے والی سلطنتیں انتظام نہ کرتیں۔تو جر من فتح یاب ہو جاتا۔اس لیے وہ آزادی جو سینکڑوں برس سے افراد کو حاصل تھی۔مٹا دی گئی۔حکومت کو تمام افراد پر کلی اختیار دیا گیا جتنے لوگ کام کے اہل تھے۔ان کی زندگیاں غلاموں کی طرح کر دی گئیں۔جو فوج کے قابل تھا۔اسے جبراً فوج میں داخل کیا گیا۔جو مزدوری پیشہ تھا۔اُسے جبراً مزدوری کے کاموں پر لگایا گیا۔جو حفاظت کے کاموں کے قابل تھے ان کو مختلف دفاتر میں کلرکوں کی طرح لگا دیا گیا، جو صنعت و حرفت میں کام دے سکتے تھے نہیں جبراً وہاں لگایا گیا۔جو زراعت پیشہ تھے۔ان کو جبراً زراعت کے کاموں پر لگایا گیا۔اس میں نہ بڑے کا سوال تھانہ چھوٹے کا شہزادے تھے تو ان کی۔اور اگر عوام تھے تو ان کی آزادی قربان کر دی گئی تھی اور قانون کے ماتحت سب کی آزادی چھین کر گورنمنٹ کو دی گئی تھی۔تو ایسے مواقع پر ایسا ہی کرنا پڑتا ہے۔