خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 308

نے کہا کہ آپ میری مدد کریں ۔ چنانچہ مولوی صاحب کو پکڑا اور خوب مارا اور درخت سے باندھ دیا۔ آخر سید صاحب کو اس نے پکڑا کہ تم کیسے سید اور آل رسول ہو کہ لوگوں کی چیزیں لوٹ رہتے ہو۔ اس کو پکڑا اور مارنے لگا، وہ بہت منت سماجت کرنے لگا، مگر اُس نے نہ چھوڑا اور کہا کہ یہ بات مجھے پہلے سوچینی چاہتے تھی۔ جب تیرے پہلے ساتھی پر مصیبت آتی تھی۔ پس اگر ایک کی مصیبت کو اسی شخص کی مصیبت خیال کیا جائے تو جماعت بہت جلد ہلاک کی اسکتی ہے لیکن چاہتے یہ کہ اگر ایک پر آفت آئے تو سب بے چین ہو کر اس کی بد کے لیے دیں پھر آفت سب بے ہو کرا مدد دشمن قابو سے نہیں بچ سکتا۔ اور اسی طریق سے محبت و اخلاص اور ایمان و تقویٰ اور تعلق باللہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو دشمن ایک ایک کر کے سب کو کھا جائیں گے۔ بے تعلقی ادنی درجہ ہے۔ اس سے ترقی کرو اور محبت و اخلاص بڑھاؤ ۔ جب اخلاص میں ترقی ہوگی ۔ تو ایمان میں بھی ترقی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس بات کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آئین۔ ( -1919 الفضل ۱۴ اکتوبر شلة ) ۷۰