خطبات محمود (جلد 6) — Page 309
58 ضروریات اسلام کا علم حاصل کرو -1919۔د فرموده ۳ اکتوبر ۷ ) حضور انور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اس وقت دنیا کے لوگ جس طرح دنیا کے کاموں میں منہمک ہو رہے ہیں۔اس کی مثال کسی گزشتہ زمانہ میں نہیں ملتی ہر ایک زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ دنیا داری کی طرف متوجہ نظر آتے ہیں اور دنیا کی محبت ہر ایک چیز سے زیادہ ان پر غالب ہوتی ہے۔ہر زمانہ کے لوگ شکایت کرتے آتے ہیں کہ اس زمانہ میں لوگوں کی زیادہ توجہ دنیا کی طرف ہے۔اور دین سے بے خبر ہو گئے ہیں مگر اس زمانہ کا حال دوسرے زمانوں سے بہت مختلف ہے۔اگر ان زمانوں میں چند شالیں پائی جاتی ہیں کہ لوگ دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف ہو گئے اور پھر اگر کثرت بھی ہو کہ لوگ دین کی نسبت دنیا کی طرف زیادہ متوجہ ہوں تو بھی اس زمانہ کے مقابلہ میں اس وقت کی بہت اچھی حالت تھی۔کیونکہ اس وقت سو فیصد ایسے شخص ہیں۔جو دین کو چھوڑ کر دنیا کی طرف متوجہ ہیں۔اس کے یہ معنے نہیں کہ دنیا میں کوئی بھی دیندار ہیں۔لیکن اس سو فیصد کہنے کے یہ معنے ہیں کہ ہزار میں سے ایک مل جاتے تو مل جائے ، ورنہ اس کا ملتا بھی مشکل ہے۔دنیا کی جس قدر آبادی ہے اگر ایک ہزار میں سے ایک آدمی بھی ایسا مل جاتے جو دین کی طرف متوجہ ہو تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ کئی ہزار انسان اس قسم کے میں جو دنیا کو ترک کر کے دین کی طرف ہو گئے ہیں۔اس سوال کو علیحدہ کر کے کہ ہماری جماعت کی کتنی تعداد ہے۔اور کتنی نہیں۔اگر دیکھا جائے، تو ایسے لوگ بہت کم ملیں گے جو دین کی طرف متوجہ ہیں۔یہ سچ ہے کہ بہت لوگ ایسے ہیں جن کو دین سے محبت ہے۔دین سے اخلاص ہے۔دین کے لیے قربانیوں کا جوش ہے۔مگر وہ اس ذمہ داری کو نہیں سمجھتے۔جو دین کی طرف سے ان پر عائد ہے۔یہ ظاہر ہے کہ صرف محبت و اخلاص سے کام نہیں چلا کرتا۔جب تک محبت کے ساتھ ضروریات کا علم نہ ہو۔شلاً ایک شخص کا ایک پیارا بیا دوسرے کمرے