خطبات محمود (جلد 6) — Page 30
غرض اسی طرح وہ ہر ایک چیز کا انکار کر دیتے ہیں۔ اور خالی رہ جاتے ہیں۔ پھر ایمان بھی ندارد ہو جاتا ہے کیونکہ ایمان تو ان سب اجزاء کے مجموعہ کا نام ہے اور ہر ایک چیز کی یہی حالت ہے کہ اس کے تمام اجزاء کا مجموعہ وہ چیز ہو گا۔ نہ اس کا کوئی جز و نادانی ہے کہ کوئی کہ دے کہ کیا عرب میں حج کے لیے جانے کا نام ایمان ہے یا زکواۃ کے چند روپے دینے کا نام ایمان ہے کیونکہ اس طرح اس کا سارا ایمان ایک جزو کے ترک کرنے سے بہہ جاتا ہے۔ مثلاً کوئی شخص آدمی کے متعلق تحقیقات کرے کہ اس میں مٹی ہے ۔ لوہا ہے وغیرہ وغیرہ اور کے کہ لوجی آدمی ۔ آدمی کہتے تھے۔ کیا مٹی آدمی ہے ؟ کیا لوہا آدمی ہے ؟ یہ تو سچ ہے کہ مٹی اور لوہا وغیرہ تو آدمی نہیں ۔ مگر ان سب کے مجموعہ کا نام آدمی ہے ۔ اجزاء ایمان جو ہیں وہ بطور غلاف کے ہیں۔ اگر اجزاءہ کو چھوڑ دیا جاتے تو باقی کچھ بھی نہیں رہتا۔ ہر ایک انسان کو چاہتے کہ تمام اجزاء کو دیکھے اور پھر اپنے نفس پر غور کرے۔ اگر تمام اجزاءہ اس میں موجود ہوں تو ایمان ہے۔ ورنہ نہیں مثلاً کسی برتن میں چھید کر دیا جائے اور پھر پانی اس میں ڈالا جاتے تو پانی اس میں نہیں رہے گا۔ اسی طرح ایمان کے اجزاء میں سے اگر کسی جزو کو چھوڑ دیا جاتے تو اس کی کمی ہو جاتے گی اور اس وجہ سے اس میں سے ایمان کا مغز رہ جاتے گا ۔ کی اور میں سے ایمان کا پس نہایت ضروری ہے کہ کوئی جزو ایمان چھوٹ نہ جاتے ۔ اس وقت میں نے جو آیت پڑھی تھی وہ تو رہ ہی گئی۔ اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اگلے جمعہ دیکھا جائے گا۔ ( الفضل ۱۹ / فروری شالله )