خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 298

۲۹۸ ہر انسان ادنیٰ سے ادنی اعقل رکھنے والا بھی سمجھ سکتا ہے۔ مگر بعض ایسے اُمور ہیں جو ایمانیات سے وابستہ نہیں بکہ ایسے ہیں جو محض یقین کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں بڑا عمل کے ساتھ۔ ان میں بہت سی ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو ظاہری علم کے ذریعہ انسان کی سمجھ میں سمجھ میں نہیں آسکتیں۔ بلکہ ان کے سمجھنے کے لیے روحانی علم کی ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے اس حد بندی کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ کوئی یہ نہ کسے کہ اگر ہمارے مذہب میں بھی بعض ایسی باتیں پائی جاتی ہیں جو ظاہری علم اور عقل کے ذریعہ سمجھ میں نہیں آئیں تو پھر ہم عیسائیوں پر پر کیا کیا ا اعتراض کر سکتے ہیں کہ تہاری مذہبی باتیں عقل میں نہیں آئیں پیس اصل بات یہ ہے کہ جن امور پر نجات کا دار و مدار ہے ان کے متعلق ضروری ہے کہ سمجھ میں آئیں۔ کیونکہ اگروہ کسی کے سمجھ میں ہی نہ آئیں۔ تو ان پرعمل کس طرح کیا جاسکے گا لیکن بعض ایسی باتیں جن سے روحانی مدارج میں ترقی حاصل ہوتی ہے۔ ان کی سمجھ اسی وقت آتی ہے جبکہ کسی قدر روحانی استعداد حاصل ہو جاتی ہے جن باتوں پر نجات کا دارو مدار ہے۔ ان کو توالیا ہی سمجھنا چاہتے۔ جیسا کہ بچوں کے پڑھنے کا ابتدائی قاعدہ ہوتا ہے ۔ اس پر بچہ کو الف ب پڑھاتے اور سمجھاتے ہوئے کوئی دلیل دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ بغیر اس کے وہ سمجھ سکتا ہے اسی طرح اسلام میں وہ امور جن پر نجات کا دارو مدار ہے۔ ان کو تو ہرشخص سمجھ سکتا ہے۔ ہاں جس طری بعض ضدی بیچنے الف کو ب اور بے کو الف کہہ دیا کرتے ہیں ۔ اسی طرح اگر کوئی ضدی اور ہٹ دہرم انسان سے کہ خدا ایک نہیں ہے اور دلائل سے بھی نہ مانے۔ یارسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کو ظاہری دلائل سے بھی تسلیم نہ کرے تو اُسے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ مگر خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول کریم کی صداقت کے ایسے صاف اور واضح دلائل ہیں۔ کہ جنہیں معمولی سے معمولی عقل کا انسان بھی بآسانی سمجھ سکتا ہے اس کے مقابلہ میں روحانیت سے تعلق رکھنے والی ایسی باتیں ہیں کہ جنہیں وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو روحانیت میں دن کچھ نہ کچھ دخل رکھتے اور جنہیں کسی حد تک روحانی مدارج حاصل ہوتے ہیں ورنہ ظاہری دلائل سے وہ نہیں سمجھائی جاسکتیں ۔ مثلاً قرآن کریم کی آیتوں کے جو خاص اثرات ہیں ۔ ان کو نہ تو سمجھا یا جا سکتا ہے اور نہ کوئی روحان روحانیت سے بے بہرہ انسان انہیں سمجھ سکتا ہے۔ کوئی نا واقف انسان کے کہ ان کا کیا اثر ہو سکتا ہے لیکن جنہوں نے تجربہ کیا ہے اور فائدہ اٹھایا ہے۔ ان کی شہادتیں موجود ہیں۔ اور وہ بڑے زور کیساتھ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بعض خاص آیتوں سے بڑی بڑی مشکلات حل ہو جاتی اور بڑے بڑے فوائد پہنچتے ہیں تو آیات کے خاص اثرات کا انکار نہیں کیا جا سکتا ، مگر ساتھ ہی اس کے یہ بھی ہے کہ کوئی نہیں بنا سکتا کہ ان کے اثرات کیوں ہیں۔ اس سے میرا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص کو نہیں بتایا جاسکتا۔ کیونکہ ایسی