خطبات محمود (جلد 6) — Page 297
۲۹۷ 56 دُعائیں قبول ہونے کا خاص دن د فرموده در ستمبر ۱۹۱مه) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- غیر انشا۔تو آج بہت کچھ منانے کا تھا مگر جمعہ پڑھنے کے لیے آنے سے تھوڑی دیر پہلے درود کی شکایت ہو گئی ہے۔اس لیے مختصر طور پر ہی اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آج کا دن دعاوں کی قبولیت کے لیے خاص خصوصیت رکھتا ہے یہ ایک افسوس کی بات ہے کہ اس زمانہ میں جہاں ظاہری علوم کی ترقی ہوتی ہے ہاں لوگوں کی قیمتی سے روحانی علوم میں کی واقع ہوتی ہےاور جوں جوں لوگ ظاہری علوم سے زیادہ واقف ہوتے جاتے ہیں خواہ وہ علوم کی یورپی زبان میں نہ ہوں بلکہ اس زبان میں ہوں میں میں خدا کا آخری کام شرعیت کے رنگ میں نازل ہوا ہے۔تاہم لو اپنی قیمتی اور زمان کی رو اورشیطان کے آخری حملہ کے اثر سے ان روحانی باتوں کو جو ان کی محدود عقل میں نہیں آسکتیں چھوڑتے جاتے ہیں۔اور اب تو یہاں تک حالت ہو گئی ہے کہ جو ذرا کوئی ایک دو کتابیں پڑھ لیتا ہے۔وہ سمجھ لیتا ہے کہ مجھ میں خدا تعالی کی بنائی ہوئی اور رسول اللہ فرمائی ہوئی باتوں پر تنقید کرنے کا مادہ پیدا ہوگیا ہے۔اور اگر خوش قسمتی یا بدقسمتی سے کچھ زیادہ علم پڑھ لیتا ہے۔تو پھر یہ تنقید کرنے تک ہی اپنی قابلیت کو محدود نہیں رکھتا۔بلکہ خدا تعالیٰ کو املا کرانے کا بھی اپنے آپ کو مستحق سمجھتا ہے۔اور کہتا ہے کہ خدا کو اس طرح نہیں۔بلکہ اس طرح کہنا چاہتے تھا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شریعت کے بہت سے احکام جو اپنی کم عقلی اور روحانیت کی کمزوری کی وجہ سے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتے ، ان کا اگر اپنے آپ کو مذہب کا پابند ظاہر کرنے کے لیے انکار نہیں کرتے توان پر عمل بھی نہیں کرتے اور ان کے صحیح اور درست ہونے کا اعتقاد بھی نہیں رکھتے۔حالانکہ وہ صداقتیں ہیں۔لیکن جب تک روحانی علوم میں ملکہ حاصل نہ ہو، اس وقت تک وہ مجھ میں نہیں آسکتیں، گو یہ صداقتیں ایمانیات سے تعلق نہیں رکھتیں یعنی ایسی ہیں کہ جن پر ایمان لانے کے بغیر نجات نہ ہوسکے، مگر اس میں شک نہیں کہ وہ صداقتیں ضرور ہیں۔ہاں وہ امور جن پر نجات کا دارو مدار ہے ، وہ ایسی صورت میں پیش کئے گئے ہیں کہ جن کو