خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 281

FAI یہ کام جاری رہیں گے۔ان میں بھی ایک رخصت ہوتی ہے۔مثلاً ظہر کے بعد عصر تک کے وقفہ مں چھٹی ہے۔عصر سے مغرب تک۔مغرب سے عشاء تک اور عشاء سے صبح تک۔اور اس کا یہ دور ایک دو مینہ یا سال دو سال کے بعد پر نہیں ہو جاتا، بلک جب تک تم بھی شہر کا دور اور کر کے خدا کے حضور جاؤ گے۔تب وہ رخصت تمہیں مل جائیگی۔اور پھر وہ رخصت ایسی ہوگی جو بھی منقطع نہ ہوگی۔اس محنت کے بعد تمہیں آرام ملے گا۔یہ چھٹیاں جو ہوتی ہیں۔ان میں کوئی شخص ذمہ داری نہیں لے سکتا کہ م بیمار نہ ہو گے یا تھا کوئی تعزیز قریب بیمار نہ ہوگا، لیکن اس یونیورسٹی کا مالک یعنی خدا ذمہ لیتا ہے کہ وہ جو چھٹیاں دیگا۔ان میں تم آرام ہی آرام پاؤ گے۔اور تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی۔پس اس بات کو یاد رکھو که مدرسه حدید اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کی چھٹیاں اور اس اسلام کے مدرسہ کی چھٹیاں دونوں مختلف ہیں۔اور مختلف اوقات میں آتی ہیں۔تمہیں جو چھٹی ہوگی۔وہ ان مدارس سے ہوگی ، لیکن اس سے نہیں ہے کہ اخلاقی تعلیم کو فراموش کرد۔شریعت کے احکام کو بھلا دو۔والدین کی فرمانبرداری چھوڑ دور زبان اور ہا تھ اور جسم کو بدی سے نہ روکو۔گتا ہے کہ بعض لڑکے چھٹیوں میں نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور آوارہ ہو جاتے ہیں۔انکو سوچنا نے کہ چھٹیاں تو ہوتی ہیں مگر کسی مدرسہ میں۔اسلام کے مدرسہ سے ایسی انہیں چھٹی نہیں ملی۔انکی چھٹی کا وقت تو موت کے وقت آتا ہے۔یہ چھٹیاں تو ایسی ہیں کہ انکے بعد زیادہ پڑھنا پڑ گیا اوران چھٹیوں میں بھی دو ایک گھنٹہ محنت کرنی پڑیگی مگران چھٹیوں کے بعد تمہارے لیے کوئی محنت ومشقت نہیں ہوئی۔آرام ہی آرام ہوگا پچران چھٹیوں میں ذمہ داری نہیں لی جاتی کہ تم ضرور آرام ہی کرو گے۔مگر خدا کے ہاں سے ذمہ داری لی جاتی ہے کہ تم ضرور آرام ہی پاؤ گے۔پس میں طالب علموں اور مدرسوں کو نصیحت کرتا ہوں کیونکہ بعض مدرس بھی گھروں میں جاکر شکست ہو جاتے ہیں۔باہر جا کر تم با دو کہ قادیان میں رہ کر تعلیم دین نے تم میں کیا تغیر پیدا کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دے۔آمین : ( الفضل ۱۲ اگست شته )