خطبات محمود (جلد 6) — Page 275
۲۷۵ 51 فرمانیبزاری اختیار کرو فرموده ۲۵ جولائی شاشه تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ :۔بعض صوفیا کا قول ہے کہ جو شخص اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے وہ اسی ذریعہ سے خدا تعالیٰ کو پہچان لیتا ہے اور تصوف میں اس قول کو اتنا دخل ہے کہ تصوف کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔بعضوں نے غلطی سے اس کلمہ حکمت کے معنے یہ کہتے ہیں کہ ہم خدا ہیں۔ہمہ اوستی کا مذہب اپنی معنوں اور اسی خیال سے نکلا ہے۔مگر یہ نادانی ہے۔اس سے یہ مذہب نہیں نکلتا ہے۔بلکہ اس سے تو ثابت ہوتا ہے کہ بندے اور جگرا میں کیا فرق ہے جس نے اپنے نفس کو دیکھا۔اور اپنی امتیا جوں اور کمزوریوں کو پہنچانا اس نے تکبر کو چھوڑ دیا۔اور اپنے خدا کی طرف مجھک گیا اور جو لوگ اپنے نفس سے ناواقف ہیں۔ان کی یہ نا واقفیت ہی ان کو تکبر و خود پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔جب انسان غور کریگا۔تو اس کو معلوم ہو گا کہ اس کے نفس کو کتنی احتیا میں لگی ہوتی ہیں۔اورکتنی اونی ادنی چیزوں کا محتاج ہے۔یورپ نے تکبر کیا۔مگر نتیجہ یہ ہوا کہ دھوبی سٹرا تیک کرتے ہیں ، نائی سٹرا تیک کرتے ہیں۔اور بڑے بڑے امرا تک ان کے آگے ہاتھ جوڑتے ہیں کہ جو کہو وہ ہم مانتے ہیں۔کوٹلہ ڈالنے والے اور کو مکہ کھودنے والے مسٹرائیک کرتے ہیں اور حکومت والے ان کی خوشامد کرتے ہیں کہ آپ جو کہتے ہیں ہم وہی مانتے ہیں۔اس ذریعہ سے خدا نے یورپ کو بتایا ہے کہ انسان ہزاروں چیزوں کا محتاج ہے۔اور ان کا محتاج ہے جن کو وہ ادنی کہتا ہے۔یہ نیا عقیدہ نہیں۔یہ نیا فلسفہ نہیں۔جیسا کہ آج کل کے نادان تعلیم یافتہ یا جاہل تعلیم یافتہ خیال کرتے ہیں، بلکہ یہ ایک عذاب ہے جو خدا نے بھیجا ہے که ان لوگوں کا جو متکبر ہیں تکبیر ٹوٹ جاتے۔جو لوگ موجودہ سڑا نیکیوں کو ایک فلسفہ کہتے ہیں۔یا اقتصادیات کا ایک جز و قرار دیتے ہیں سخت غلطی کرتے ہیں۔چند عرصہ میں نہ یہ فساد ہونگے نہ یہ ٹرائیں ہونگی۔بعض عذاب کے طور پر ہیں۔وه