خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 267

۲۶۷ با جماعت نماز پڑھنا کوئی معمولی بات ہے بلکہ فرضوں میں سے بہت بڑا فرض ہے جس کے ادانہ کرنے کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسقدر شدت سے نفرت کا اظہار کیا ہے ہیں جو جو لوگ اس کو پورا نہیں کرتے ۔ انہیں سوچنا چاہیئے کہ وہ رسول کریم صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کی قدر ناراضگی کہ استقدیر ناراضگی کا بار اپنے ادبیر اُٹھاتے ہیں۔ انہیں خوب اچھی طرح سُن لینا ب اچھی طرح سُن لینا چاہیئے کہ کسی کی لڑائی اور کسی سے جھگڑا اس فرض کی ادائیگی میں ہرگز روک نہیں ہو سکتا ۔ اگر وہ زید و بکر کے لیے نماز پڑھتے ہیں تو ان سے لڑائی ہونے کی وجہ سے چھوڑ سکتے ہیں، لیکن اگر خدا کے لیے پڑھتے ہیں۔ تو پھر کون ہے جو کہہ سکتا ہے کہ چونکہ خدا سے میری لڑاتی ہے۔ اس لیے میں نماز نہیں پڑھتا۔ اگر اس سے کسی کی لڑائی ہے تو وہ نہ پڑھے ۔ اور اگر نہیں تو زیدو بکر کی لڑائی کی وجہ سے خدا کی نمازہ کو کیوں ترک کرتا ہے۔ میرے نزدیک وہ شخص جو نماز با جماعت پڑھنے میں سستی کرتا ہے کسی قسم کی روحانی ترقی حاصل نہیں کرسکتا۔ کیونکہ یہ نہایت ضروری درکن اسلام ہے۔ اور ایسا ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جو اس کو ادا نہیں کرتا ۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں اس کو مع اس کے گھر کے جلا دوں۔ بعض لوگوں نے صرف عشاء اور صبح کی نماز با جماعت نہ ادا کرنے والوں کے متعلق اسے سمجھا ہے۔ لیکن اصل میں اس میں ساری نمازیں آ جاتی ہیں۔ کیونکہ یہی دونوں نمازیں پڑھنا مشکل ہوتی ہیں۔ جب ان کے متعلق فرمادیا۔ تو باقی نمازیں خود بخود اس کے نیچے آگئیں۔ تو نماز باجماعت پڑھنا ہر ایک مسلمان پر بہت بڑا فرض اور ایک اہم ذمہ داری ہے۔ جو اس سے جی چراتا ہے خواہ زید و کبر کی لڑائی سے یا کسی اور وجہ سے۔ وہ قطعاً اس قابل نہیں ہے کہ مومن احمدی کہلا سکے کیونکہ وہ خدا کا مجرم ہے۔ اور میرے نزدیک اس سے بڑھکر دنیا میں کوئی بیوقوف اور کم عقل نہیں ہو سکتا۔ جو انسان سے لڑ کر خدا سے لڑائی شروع کر دے۔ قاعدہ تو یہ ہے کہ جب کسی سے لڑائی ہو۔ تو دوسروں کی ہمدردی حاصل کی جاتی ہے۔ دیکھو گورنمنٹ برطانیہ کی جب جرمنی سے لڑائی شروع ہوئی تو با وجود اس کے کہ بہت بڑی حکومت ہے۔ چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ تو چونکہ لڑائی کے وقت انسان زیادہ دوستوں اور مدد گاروں کا حاجتمند ہوتا ہے اس لیے اگر کسی کی کسی سے لڑائی ہو تو اس کو ضرورت ہے ۔ کہ اپنے زیادہ دوست بنائے ۔ اور خدا سے بڑھکر اور کون دوست ہو سکتا ہے۔ پس اس وقت جبکہ لڑائی نہ تھی ۔ امن تھا۔ اگر خدا کو دوست بنانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ تو اب جبکہ ڈر ہے کہ دوسرے سے نقصان اُٹھاتے ۔ بہت زیادہ ضرورت ہے کہ خدا کو اپنا دوست اور مددگار بناتے۔ اور یہ وقت ہے کہ وہ اس سے صلح کرے ۔ نہ کہ لڑائی ، لیکن جو کسی سے لڑائی ہونے کی وجہ سے نمازہ کو ترک کر دیتا ہے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ کسی کے گھر جب ڈاکہ پڑے۔ تو وہ لوگوں کو