خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 266

وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا اُنْزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمُ يُوقِنُونَ۔یہ شرطیں جب کسی میں پائی جاتیں۔تو وہ متقی ہوتا ہے۔اور جب یہ شرطیں پائی جاتی ہیں۔تب قرآن روحانیت کی طرف راہ نمائی کرتا ہے۔وہ شرطیں یہ ہیں :۔(۱) ایمان بالغیب (۲) اقامت نماز (۳) جو کچھ خدا نے دیا ہو امیں سے خرچ کرنا (۳) رسول کریم پر اور آپ سے پہلے نبیوں پر جو کچھ اترا۔اور جو آئیندہ نازل ہو گا۔اس پر ایمان لانا۔ان شرطوں کو جو انسان پورا کر لیتا ہے اس پر روھانیت کا دروازہ کھل جاتا ہے، لیکن جو ان کو اس طرح پورا نہیں کرتے ہیں جس طرح ان کے پورا کرنے کا حق ہے انہیں قرآن ہدایت نہیں کرتا۔یہی وجہ ہے کہ بہت لوگ قرآن پڑھتے ہیں۔مگر کہتے ہیں یہیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔بات دراصل یہی ہے کہ قرآن اسی وقت ہدایت کرتا ہے۔جبکہ یہ شرائط پوری ہوں۔ان شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ناز کو قائم کرنا اور جماعت کے ساتھ ادا کرنا بعض لوگ بے علمی اور نا واقفیت کی وجہ سے کہتے ہیں کہ جمعہ کی نماز باجماعت پڑھنا فرض ہے۔حالانکہ بات ہے کہ جمعہ کی نماز ایسی ہی فرض ہے۔جیسا کہ ساری نمازیں۔قرآن کریم میں جمعہ کی نماز کا اگر ایک جگہ ذکر آیا ہے تو روزانہ نمازوں کا ذکر متعدد جگہ آیا ہے۔پس جمعہ کی نماز دوسری نمازوں سے زیادہ فرض نہیں ہے، لیکن لوگ لاعلمی کی وجہ سے سمجھتے نہیں۔اور صرف جمعہ کی نماز با جماعت ادا کرنا فرض جانتے ہیں۔حالانکہ قرآن کریم میں جہاں جہاں اقیموا الصلوة کا ذکر آیا ہے۔وہاں نماز با جماعت کا ہی حکم ہے۔حتی کہ ایک صحابی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ کہتے نماز ہوتی ہی نہیں جب تک کہ با جماعت نہ ہو مگر ہمیں صحابہ کے قول پر ہی اکتفاء کرنے کی ضرورت نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقوال بھی ایسے ہی ملتے ہیں۔چنانچہ فرماتے ہیں۔جو لوگ عشاء اور صبح کی نماز با جماعت پڑھنے کے لیے مسجد میں نہیں آتے۔میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی جگہ کسی اور کو نماز پڑھانے کے لیے کھڑا کر دوں۔اور اپنے ساتھ اور آدمیوں کو لیکر ان کے سر پر ایندھن رکھ کر اُن لوگوں کے گھروں میں جاؤں۔اور آدمیوں سمیت ان کے گھروں کو جلا کر راکھ کر دوں تے دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم جیسا رحیم انسان جو کسی کی ادنیٰ سے ادنی تکلیف کو بھی نہیں دیکھ سکتا تھا اور جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔رحمة للعلمین ہے۔وہ جب یہ کہتا ہے کہ جو لوگ مسجد می نماز پڑھنے کے لیے نہیں آتے ان کو مع اُن کے گھروں کے جلا دوں۔تو اس سے یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ له بخاری ومسلم بحواله مشكورة كتاب الصلوة في الجماعة وفضلها : له الانبياء : ١٠٨