خطبات محمود (جلد 6) — Page 265
۲۶۵ نصیحت کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں کوئی کم ایسانہیں ہے۔ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور واحد شخص کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہو۔ اور رسو ہو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرنا سارے جہاں کو مخاطب کرتا ہے تو قرآن کریم میں تمام احکام عام رنگ میں بیان کئے گتے ہیں۔ اس لیے میں بھی نصیحت خطبہ میں بیان کرتا ہوں پھر اس لیے بھی کہ یہاں کے بعض لوگ بھی باجماعت نماز پڑھنے میں کمزور ہیں ۔ اور وہ جمعہ اور عیدوں کے سوا کبھی وا کبھی مسجد میں نہیں آتے یا کبھی کبھی شکل دکھاتے ہیں پھر چونکہ خطبہ جمعہ لکھا جاتا ہے۔ اور اخبار میں چھپ کر باہر کے لوگوں کو بھی پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے اسی موقع پر بیان کرتا ہوں :- بیٹھ کہتے اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں قرآن کریم میں نماز کے لیے حکم بیان فرمایا ہے۔ وہاں کثرت کیساتھ قیام صلوۃ اور حفاظت صلوٰۃ فرمایا ہے صرف نماز پڑھنے کا لفظ بہت کم جگہ آیا ہے۔ اور وہ بھی حکم کے طور پر نہیں ۔ جہاں احکام کا ذکر ہے۔ وہاں اقامت کا لفظ ساتھ رکھا گیا ہے اور اقامت صلوٰۃ کے منے یہ ہیں کہ نماز کو اسکی تمام شرائط کے ساتھ پڑھا جائے ۔ اقامت کا لفظ عام ہے اور جب کسی امر کی تکمیل ہو جائے، تو اس کے متعلق اقامت کا لفظ بولتے ہیں۔ مثلاً تجارت ہے۔ جب کسی ملک کی تجارت پورے زور پر نہ ہو ۔ تو اس کی نسبت کہتے ہیں کہ فلاں ملک کی تجارت بیٹھ گئی اور اور اگر پورے زور پر ہو تو ہیں کہ فلاں ملک کی تجارت کھڑی ہے ۔ اس طرح دوسرے سب امور جب امور جب تکمیل کو پہنچ جائیں ، تو انکے متعلق اقامت کا لفظ بولتے ہیں اور جب ان میں کمزوری پیدا ہو تو بیٹھ گئے کہتے ہیں اس لیے نماز کی اقامت کے یہ معنے ہوئے کہ اس کو تمام شرائط کے ساتھ ادا کیا جائے اور یہی وہ بات ہے ۔ جس کا قرآن کریم میں حکم دیا گیا ہے ۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے انسان مومن بنتا ہے۔ اور یہی وہ ذریعہ ہے جس سے اللہ کا فضل نازل ہوتا ہے ۔ دیکھو یہی آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ذلِكَ الكِتبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ - یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ یعنی اس میں ایسی تعلیم ہے۔ جو ہر ایک شک اور شبہ کو مٹانے والی ہے ۔ اس کے اختیار کرنے سے کسی قسم کا شک و شبہ نہیں رہتا۔ یہ متقیوں کے لیے ہدایت ہے۔ انہیں ایک سیدنا رستہ دکھاتی ۔ ایک نئے جہان میں لے جاتی ۔ اور اُن پر روحانیت کا دروازہ کھول دیتی ہے اس سے۔ آگے بتایا کہ متقی کون ہوتا ہے ؟ فرمایا :- الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقُتُهُمُ يُنفِقُونَ