خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 241

۲۴۱ ابو کر ایک ایسی تلوار کے شہید تھے جس کا ظاہر میں وجود نہ تھا، مگر ہر وقت چلتی رہتی تھی ۔ یہ سب جلیل القدر انسان خطرناک وقتوں میں جنگ کے میدانوں میں گئے ۔ اور دوسروں سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ مگر خدا کی مصلحت تھی کہ ان کو اس وقت بچائے رکھا ۔ کیونکہ خدا جانتا تھا کہ وہ وقت آتا ہے جبکہ یہ اسلام کی عظیم الشان خدمتیں بجالائیں گے۔ اور مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھرنے سے بچائیں گے۔ حضرت علی رض سے کسی شخص نے دریافت کیا کہ صحابہ میں سے سب سے بہادر کون تھا۔ شیعہ حضرت علی کے متعلق کہا کرتے ہیں۔ کہ شیر خدا تھے ۔ بیشک وہ شہر خدا تھے۔ مگر شیعوں کی اس سے غرض دو سے صحابہ کی مذمت کرنا ہوتا ہے ۔ ہاں۔ تو حضرت علی نے کہا کہ اس وقت بہادری کا معیار یہ تھا کہ جو سب سے زیادہ رسول کریم کے قریب ہوتا تھا۔ وہی سب سے بڑا بہادر سمجھا جاتا تھا۔ یہ بات فوجی نقطہ خیال سے بالکل درست ہے کیونکہ فوج کا افسر جہاں ہوتا ہے۔ وہی جگہ دشمنوں کی نظر میں سب سے اہم ہوتی ۔ اور اسی پر دشمن کا سارا زور ہوتا ۔ کیونکہ اس زمانہ : ا اس زمانہ میں یہ طریق تھا کہ اگر افسر مارا جاتا۔ تو ساری فوج بھاگ کھڑی ہوتی۔ تو ایسے معرکے میں جو افسر کے زیادہ قریب ہوتا ۔ وہی سب سے زیادہ بہادر سمجھا جاتا اور اسی کی بہادری سب سے بڑھی ہوئی ہونی چاہیئے ۔ یہ فرما کر حضرت علی نے کہا ۔ اور لڑائی کے وقت سب سے زیادہ آنحضرت کے قریب ابوبکر ہوتے تھے یہے اور یہ بالکل ٹھیک ہے ۔ جنگِ اُحد میں ایک آن کی آن کے لیے ۔ جب دشمن آنحضرت اور صحابہ کے درمیان حائل ہو گئے ۔ تو اس قت صرف ابو دجانہ پاس رہ گئے ۔ ورنہ ہر خطر ناک وقت میں حضرت ابو بکرہ ہی رسول کریم کے قریب ہوتے تھے۔ مگر باوجود اس کے وہ تلوار کے ذریعہ شہید نہ ہوتے مگر کیا ان کی شہادت میں کچھ شک ہو سکتا ہے ۔ ہرگز نہیں ۔ تو صحابہ میں سے تھوڑے شہید ہوتے ۔ اور زیادہ بغیر تلوار کے قربان شدہ تھے ۔ ایسا ہی ہماری جماعت کے لوگوں کو ہونا چاہیئے ۔ ہمیں سید عبداللطیف مرحوم اور عبدالرحمن خان کی مثال دیگیر اور ان کی شہادت پر یہ کہ کر خوش نہیں ہونا چاہیئے۔ کہ وہ شہید ہو گئے۔ بلکہ خود شہادت کا درجہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہتے اور جب تک ہم خود بھی شہید نہ ہو جائیں۔ دوسروں کی شہادت پر خوش نہیں ہونا چاہیئے ۔ اُنھوں نے اگر شہادت پائی۔ تو اپنا فرض ادا کیا نہ کہ تمہارا فرض انکے شہید ہونے سے ادا ہو گیا ادا ہو گیا۔ تم میں سے ہر ایک کو اپنا فرض آپ ادا کرنا چاہیئے ۔ کیونکہ جب تک جماعت کا تاریخ الخلفا - السیوطی حالات سیدنا ابو بکر صدیق رضا نه