خطبات محمود (جلد 6) — Page 240
۴۴۷۰ پس چونکہ بڑائی کے معنی ہوتے ہیں بڑی قربانی کے اور چھوٹائی کے معنی ہوتے ہیں چھوٹی قربانی کے۔اس لیے اسلام نے قربانی پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔اور مسلمانوں کی کوئی عید نہیں جس کے ساتھ قربانی نہ ہو۔اسلام میں عام طور پر دو عیدیں مشہور ہیں۔ایک بڑی کہلاتی ہے۔ایک چھوٹی۔بڑی تو وہ ہے جس میں جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔اور چھوٹی وہ جو رمضان کے بعد آتی ہے۔جس کو بڑی عید کہا جاتا ہے۔اس میں تو ظاہری قربانی ہوتی ہی ہے۔اور دوسری عید جو رمضان کے بعد آتی ہے۔اس تک بھی انسان بہت سی قربانیاں کرنے کے بعد پہنچتا ہے پس در حقیقت کوئی خوشی نہیں۔اور کوئی عید نہیں۔جب تک اس کے پہلے قربانی نہکی گئی ہو۔دیکھو رمضان کے بعد جو عید آتی ہے اس سے پہلے یعنی رمضان میں کتنی قربانیاں انسان کو کرنی پڑتی ہیں۔نفس کی قربانی ،کھانے پینے کی قربانی۔شہوات کی قربانی۔اپنے جذبات اور ارادوں کی قربانی۔جب مومن اتنی قربانیاں کر چکتا ہے۔تب عید اس کو خوش کرنے کے لیے آتی ہے۔تو ان عیدوں میں ہمارے لیے بڑے بڑے سبق ہوتے ہیں۔اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہر ایک عید اور خوشی کے ساتھ قربانی لازمی ہوتی ہے۔عید الا ضحی کیا ہے۔یادگار ہے۔اس قربانی کی جو مدت ہوئی۔حضرت ابراہیم نے کی تھی۔اور اس سے ہمیں سبق دیا جاتا ہے کہ یہ ایک اصل ہے جس کے ذریعہ جماعتیں ترقی پاتی ہیں۔بغیر اس طرح قربانی کئے کوئی جماعت ترقی نہیں پاسکتی۔جب جماعت کے سارے لوگ اپنے آپ کو قربان کرنے پر آمادہ اور تمام چیزوں کو قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔تب مدعا حاصل ہوتا ہے، اور نہ کسی ایک دو کے قربان ہونے سے جماعتوں کو ترقی حاصل نہیں ہوا کرتی۔ہاں قربانی صرف گلا کٹوانے کا ہی نام نہیں بلکہ قربانی کے اور طریق بھی ہیں یعنی اپنے تمام ارادوں آرزوؤں کو ایک مقصد کے حصول کے لیے چھوڑ دینا بھی قربانی ہوتی ہے۔اور یہ ایسی قربانی ہے کہ تلوار کے ذریعہ گردن کٹانے کی قربانی اس کے مقابلہ میں آسان ہے۔کیونکہ اس سے بہت جلد فیصلہ ہو جاتا ہے ، لیکن یہ قربانی ایسی ہوتی ہے کہ ایک ہی وقت میں اس کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔پھر تلوار سے جو قربانی ہوتی ہے۔وہ بعض اوقات ناحق کے لیے بھی ہو جاتی ہے۔عیسائی عورتیں عیسائیت کے لیے سر کٹوالیتی ہیں مگر وہ قربانی جس میں نفسانیت کو چھوڑنا پڑے وہ شہوات سے علیحدہ ہونا پڑے۔آزروؤں اور تمناؤں اور جذبات اور ارادوں کو قربان کرنا پڑے۔باطل کے لیے نہیں ہو سکتی۔دیکھو تلوار سے تو بہت تھوڑے صحابہ شہید ہوتے ہیں۔مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ دیگر صحابہ شہید نہیں ہوتے۔حضرت حمزہ ہی شہید نہیں ہوتے۔حضرت ابو بکر و عمر و عثمان علی بھی شہید ہوئے ہیں۔ہاں ان میں فرق تھا تو یہ تھا کہ حضرت حمزہ ظاہری تلوار سے شہید ہوئے۔مگر حضرت