خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 221

۲۲۱ تو ہمیں ان کے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کیونکہ جتنی نازک اور باریک بات ہوتی ہے۔ اسی قدر اس کے سمجھنے کے لیے دماغ زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس یاد رکھنا چاہتے کہ اتفاق و اتحاد کا نہ ہونا مایوسی نہیں پیدا کر سکتا۔ کہ یہ حاصل ہی نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی پیدائش میں ہوسکتا۔ اس کہ ہم دکھتے ہیں کہ کی اتفاق و اتحاد رکھا گیا ہے اور انسان مدنی الطبع پیدا کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے کا محتاج ہوتا ہے ۔ جانوروں میں یہ بات نہیں ہوتی ۔ ان میں ایک نر اور ایک مادہ ہو تو انھیں تمھیرے کی ضرورت باقی نہیں رہتی، لیکن انسان کی ضروریات اس قسم کی ہیں۔ کہ یہ پوری نہیں کر سکتا جب تک اوروں کی مدد اس کے شامل حال نہ ہو۔ اسی وجہ سے انسان اکٹھے شہروں اور قصبوں میں رہتے ہیں سٹرکیں نکالتے اور راستے بناتے ہیں کہ آسانی سے چل سکیں مگر جانوروں میں یہ بات نہیں پائی جاتی کہ وہ بھی سڑکیں تعمیر کریں۔ مدینہ شہر کو اسی لیے کہتے ہیں کہ وہاں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے ۔ اور تمدن اسی میں سے نکلا ہے جس کے معنی ہوتے ہیں۔ کہ وہ اصول جن کے ماتحت لوگ آپس میں سلوک کرتے ہیں ۔ تو انسان کا مدنی الطبع بنانا ہی بتلاتا ہے کہ اس کے لیے اتفاق کی بہت ضرورت ہے اور اس وقت لوگوں میں اتفاق کا نہ ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ یہ بھی ایسی چیزوں میں سے ہے جن کا ہونا انسان کے لیے لازمی ہے۔ اور جب اس کا ہونا لازمی ہے ۔ تو ضروری ہے۔ کہ خدا نے اس کے لیے سامان بھی پیدا کئے ہوں ۔ مثلاً چونکہ خدا نے آنکھ بناتی ہے اور آنکھ میں دیکھنے کی قوت رکھی ہے ۔ اس لیے سورج کو پیدا کیا ہے۔ اور وہ مناظر پیدا کئے ہیں جن کو آنکھ دیکھتی ہے، لیکن اگر انسان کو آنکھیں نہ دی جاتیں تو کچھ بھی نہ ہوتا ۔ اسی طرح کان ہیں۔ ان کے لیے آواز پیدا کی ہے۔ ہوا پیدا کی ہے جس سے ایک کی آواز دوسرے کو پہنچتی ہے ۔ پھر خیالات پیدا ۔ پیدا کہتے ہیں اور کچھ اشارات بناء ات بناتے ہیں۔ جن سے وہ آپس میں افہام تفہیم کر سکیں۔ پھر دماغ پیدا کیا ہے جس کے ذریعہ اشارات کو سمجھ سکیں اگر دماغ نہ ہوتا تو یہ تمام افشار ہے۔ اشارے اور زبان اور بیان بیان لغو ٹھرتے پس اسی طرح اتفاق ہے کہ اس کی ضرورت کو سب تسلیم کرتے ہیں اور ہر ایک میں اس کی احتیاج پائی جاتی ہے اس لیے اس کا ہونا نا ممکن نہیں ۔ اس کے ہونے کے سامان ہیں۔ مگر بہت نازک پیس اگر یہ نہ ہو تو مایوسی کی کوئی بات نہیں ۔ مگر اس کے حاصل کرنے کے اسباب اور اُصول کی تلاش کرنا چاہتے۔ کیونکہ اگر ان کو تلاش نہیں کیا جائیگا۔ تو پھر یہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ پھر اگر غلط اصول پر چلا جائیگا۔ تو بھی کامیابی نہیں ہوگی۔ مگر غلط اصول پر پل کو کامیابی کے نہ ہونے سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اتفاق ہو ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ ہر ایک چیز کے حصول کے لیے جو طریق میں جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے اس وقت تک کسی سے وہ ان اشارات کے