خطبات محمود (جلد 6) — Page 220
42 اتفاق و اتحا د انعام الہی ہے اس کی قدر کرو ) فرموده ۲۳ مئی ۹۱۹ ه ) حضور انور نے نشتر و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد آیت کریمہ وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاةَ فَالْفٍ بَيْنَ قُلُوبِهِم فاصْبَحْتُهُ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَانْقَذَكُمْ مِنْهَاء حَذَالِكَ يُبين الله لكم انتم لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ - دال عمران (۱۳) لَكُمُ : تلاوت کی اور فرمایا :- انسانوں کا اتفاق و اتحاد ایک ایسی ضروری چیز ہے کہ دنیا کی تمام قومی اور مذاہب اس کی ضرورت کو تسلیم کرتے ہیں مگر باوجود ضرورت کے تسلیم کرنے کے ہر قوم اور ہر جماعت اور ہر فرقہ میں فرقہ و شقاق پایا جاتا ہے۔ضرورت تو اس کی اتنی ہے کہ دنیا کی کوئی قوم اور کوئی فرقہ اس کی ضرورت سے انکار نہیں کر سکتا۔مگر عملاً دیکھتے ہیں۔تو کوئی فرقہ ایسا نظر نہیں آتا جس میں وہ اتفاق کامل نظر آتے جس پر انسان کی ترقی کا مدار ہے۔یہ سچ ہے کہ بعض میں کم ہے۔اور بعض میں زیادہ مگر اپنی صلی شکل میں کمر سے کم اس وقت تو کہیں نظر نہیں آتا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اتفاق و اتحاد کی بنا ایسے نازک اصول پر ہے کہ جنگی نگہداشت بہت مشکل ہے۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی ضرورت کے سب قاتل ہیں۔اور مانتے ہیں کہ اس کے بغیر کامیابی نہیں ہو سکتی۔اور خواہش رکھتے ہیں کہ آپس میں اتفاق ہو۔اور ہر قوم کے سمجھدار اس کے حاصل کرنے میں لگے ہوتے ہیں مگر پھر بھی نا اتفاقی پائی جاتی ہے۔پس ان تمام باتوں کے باوجود اتفاق کا نہ ہوتا ثابت کرتا ہے کہ اس کی بنیاد بہت نازک اصول پر ہے۔اور انسان پر مشکل ہے کہ ان کی پوری نگہداشت کر سکے۔اب جبکہ واقعات اور دلائل سے ثابت ہوگیا کہ اتفاق واتحاد کے اصول کی بنیاد نازک ہے۔