خطبات محمود (جلد 6) — Page 192
۱۹۲ 37 انسانی تخلیق کی غرض فرموده ۴ - اپریل - 1919 حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- انسان کی پیدائش کی غرض اور اس کے اس دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد قرآن کریم میں الہ تعالی صرف ایک ہی بیان فرماتا ہے اور وہ یہ کہ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ الذاريات : ٥٠ حبق وانس کی پیدائش کی غرض تو صرف یہ ہے کہ اللہ کی عبادت کریں۔تو انسان کی پیدائش کی یہ غرض بیان کی گئی کہ میرے عابد ہو جائیں اور میری عبادت کرنے لگ۔ہیں۔اور سورۃ فاتحہ میں گویا اس غرض کے پورا ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور انسان کی زبانی اقرار کرا یا ہے کہ ایاک نعبد میں تیری ہی عبارت کرتا ہوں۔اس اقرار میں دو باتوں کا ذکر ہے کہ انسان عبادت کرتا ہے اور خدا ہی کی کرتا ہے اور وہاں بھی دو ہی باتیں بیان کی ہیں کہ انسان کی پیدائش کی غرض یہ ہے کہ عبادت کرے اور خدا ہی کی کرے ہیں وہاں ار غرض بنائی تھی تو بیاں انسان اقرار کرتا ہے کہ میں نے وہ غرض پوری کر دی جس کے لیے مجھے اس دنیا میں بھیجا گیا تھا۔یہ دعویٰ عربی زبان میں اتنا بڑا دعوی ہے کہ اردو زبان میں اگر کسی مسلمان یا احمدی اور خاص احمدی کو بھی کہا جائیگا کہ کیا تم نے وہ غرض پوری کر دی تو وہ کیسنگا کہ مجھ میں تو نقص ہیں۔میں نے کہاں اس غرض کو پورا کیا ہے۔بندوں کے سامنے تو کہے گا کہ میں نے اس غرض کو پورا نہیں کیا۔مگر خدا کے سامنے کہتا ہے کہ میں نے وہ غرض پورا کردی ہے۔حالانکہ جرات کا مقام تو خدا کے بند ہے میں نہ کہ خدا ہندوں کے سامنے انسان تقیہ کر سکتا ہے۔جھوٹ بول سکتا ہے، اپنی حالت کو چھپا سکتا ہے۔مخفی رکھ سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں کرسکتا، مگر نجیب بات ہے کہ لوگ اُردو میں تو یہ کہتے ہوئے ڈرتے ہیں۔مگر عربی میں وہی بات خدا کے سامنے کھتے ہیں اور یہ بات کچھ اردو سے