خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 189

کہ ابھی اس نے علوم کو ختم نہیں کیا۔اس کے لیے اور علوم کھولے جاتے ہیں۔پس کوئی نہیں جو قرآن کے علوم کو ختم کر سکے اس میں وہ علوم میں جو بیاں بھی کام آتے ہیں اور اگلے جہاں میں بھی کام آئیں گے۔یہ ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ اس میں انسان کی ہر حالت کے متعلق ہدایتیں ہیں اگر چہ اس کے الفاظ مختصر ہیں مگر معانی و مطالب اس قدر وسیع ہیں کہ جن کی کوئی حد نہیں جو اس خیال سے اس کا پڑھنا ترک کر دیتا ہے کہ جو کچھ اس نے پڑھنا تھا پڑھ چکا۔وہ غلطی پر ہے کیونکہ در حقیقت وہ قرآن کو نہیں پڑھ چکا چونکہ در حقیقت اس میں وہ ہدایتیں نہیں جو انسان کی ہر حالت کے متعلق ہیں۔اور انسان کی حالت ہر وقت بدلتی رہتی ہے۔اس لیے ہر وقت اس کا پڑھنا ضروری ہے۔پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کہ قرآن کریم کے پڑھنے میں کوشش کریں۔اور ان کو ایسے ایسے معارف میں گئے کہ ان کی رو میں ان کی لذت کو محسوس کریں گی اور ان کو معلوم ہوگا کہ وہ ایسے سمندر میں سے جواہر نکال رہے ہیں جس کے جواہرات کا بھی خاتمہ نہیں ہوسکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم اور حضرت مسیح موعود نے جوگر بتاتے ہیں اگر انسان ان کو مد نظر رکھے تو وہ ان علوم سے حصہ پاسکتا ہے مگر لوگ الفاظ کی طرف چلے جاتے ہیں اور معانی کی طرف توجہ نہیں کرتے۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے روزانہ قرآن کریم کا درس جاری فرمایا تھا۔ان کی تڑپ ایک خاص رنگ اور امتیاز رکھتی تھی۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ صحابہ کا دستور تھا کہ ہفتہ میں ایک دن یا دو دن قرآن کا درس دیتے تھے۔مگر میرا جی چاہتاہے کہ ہر وقت قرآن سمجھاتا رہوں اس کا ایک یہ تو فائدہ ہوا کہ بہت سے لوگوں نے اس درس سے فائدہ اُٹھایا۔اور ایسا سمجھا کہ وہ دوسروں کو سمجھانے کے قابل ہو گئے مگر جس بات سے آپ ڈرایا کرتے تھے وہ اب پیدا ہوگئی ہے اور وہ یہ کہ جو لوگ عادت کے طور پر وعظ سنتے ہیں۔انھیں اگر وعظ سننے کا موقعہ نہ ملے تو اپنی حالت پر قائم نہیں رہتے۔بات یہ ہے کہ جن طلباء کو ہر وقت استاد کی نگرانی اور سیارے کی عادت ہو جائے۔ان کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسی نشہ کے عادی کی ہوتی ہے کہ اگر نشہ نہ ملے تو اعضا شکنی شروع ہو جاتی ہے۔یہی حالت علوم کے نشہ کی ہوتی ہے۔اگر ان کو وہ نشہ مہار ہے۔تو ان کی حالت درست رہتی ہے اور اگر کسی وجہ سے وہ خزانہ لے تو پھر اعضاء شکنی شروع ہو جاتی ہے اور کسل اور سنتی پیدا ہو جاتی ہے۔جن کو علوم کی غذا کی عادت ہو جاتے انہیں اپنے نفس پر زور دینے کی عادت کم ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ پیدا ہو جاتے ہیں۔مثلاً میری پچھلے دنوں کی بیماری میں جبکہ میں درس نہ دے