خطبات محمود (جلد 6) — Page 189
١٨٩ کہ بھی اس نے علوم کو ختم نہیں کیا۔ اس کے لیے اور علوم کھولے جاتے ہیں ۔ پس کوئی نہیں جو قرآن کے علوم کو ختم کر سکے اس میں وہ علوم ہیں جو یہاں بھی کام آ م آتے ہیں اور اگلے جہاں میں بھی کام آئیں گے۔ یہ ایسی عظیم الشان کتاب ہے کہ اس میں انسان کی ہر حالت کے متعلق ہدایتیں ہیں اگر چہ اس کے الفاظ مختصر ہیں مگر معانی و مطالب اس قدر وسیع ہیں کہ جن کی کوئی حد نہیں جو اس خیال سے اس کا پڑھنا ترک کر دیتا ہے کہ جو کچھ اس نے پڑھنا تھا پڑھ چکا۔ وہ غلطی پر ہے کیونکہ درحقیقت وہ قرآن کو نہیں پڑھ چکا چونکہ در حقیقت اس میں وہ ہدایتیں نہیں جو انسان کی ہر حالت کے متعلق ہیں ۔ اور انسان کی حالت ہر وقت بدلتی رہتی ہے ۔ اس لیے ہر وقت اس کا پڑھنا ضروری ہے ۔ پس میں اپنی جماعت کے لوگوں کہ قرآن کریم کے پڑھنے میں کوشش کریں، اور ان کو ایسے ایسے معارف میں گئے کہ ان کی رو میں ان کی لذت کو محسوس کریں گی اور ان کو معلوم ہوگا کہ وہ علوم ہوگا کہ وہ ایسے سمندر میں سے جواہر نکال رہے ہیں جس کے جواہرات کا کبھی خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود نے جو گر بتاتے ہیں اگر انسان ان کو مدنظر رکھے تو مرہ ان علوم سے حصہ پاسکتا ہے مگر لوگ الفاظ کی طرف چلے جاتے ہیں اور معانی کی طرف توجہ نہیں وه کرتے۔ سے : حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے روزانہ قرآن کریم کا درس جاری فرمایا تھا۔ ان کی ترپ ایک جاری خاص رنگ اور امتیازہ رکھتی تھی ۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ صحابہ کا دستور تھا کہ ہفتہ میں ایک دن یا دو دن قرآن کا درس دیتے تھے ۔ مگر میرا جی چاہتا ہے کہ ہر وقت قرآن سمجھا نا رہوں اس کا ایک یہ تو فائدہ ہوا کہ بہت سے لوگوں نے اس درس سے فائدہ اُٹھایا۔ اور ایسا سمجھا کہ وہ دوسروں کو سمجھانے کے قابل ہوگئے مگر جس بات سے آپ ڈرایا کرتے تھے وہ اب پیدا ہوگئی ہے اور وہ یہ کہ جولوگ عادت کے طور پر وعظ سنتے ہیں۔ انھیں اگر وعظ سننے کا موقعہ نہ ملے تو اپنی حالت پر قائم نہیں رہتے ۔ بات یہ ہے کہ جن طلباء کو ہر وقت استاد کی نگرانی اور سہارے کی عادت ہو جاتے ۔ ان کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسی نشہ کے عادی کی ہوتی ہے کہ اگر نشہ نہ ملے تو اعضا شکنی شروع ہو جاتی ہے یہی حالت علوم کے نشہ کی ہوتی ہے۔ اگر ان کو وہ نشہ ملتا ہے۔ تو ان کی حالت درست رہتی ہے اور اگرکسی وجہ سے وہ غذا نہ ملے تو پھر اعضاء شکنی شروع ہو جاتی ہے اور کسل اور ستی پیدا ہو جاتی ہے۔ جن کو علوم کی غذا کی عادت ہو جاتے انہیں اپنے نفس پر زور دینے کی عادت کم ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ سے بہت سے نقص پیدا ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً میری پچھلے دنوں کی بیماری میں جبکہ میں درس نہ دے