خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 183 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 183

١٨٣ اور ہسپتال میں داخل کرنے کے لیے جگہ نہیں مل سکتی ۔ ڈاکٹر دستیاب نہیں ہوتے اور شفا خانوں میں کہ دیا جاتا ہے کہ گنجائش نہیں ہے ۔ وہاں ایسا سخت حملہ ہے کہ پہلے تو بعض مریض بیچ بھی جاتے تھے۔ مگر اب شاید ہی کوئی بچتا ہے ۔ ہندوستان کے بعض حصوں میں بھی یہ مرض شروع ہے۔ پنجاب میں بھی ہے۔ مگر تا حال زور اور وبائی صورت نہیں ہے ۔ طاعون بھی ہندوستان میں شروع ہے اور یہ اس کے خاص دن ہیں ۔ پچھلی دفعہ ابھی مرض یہاں آیا نہیں تھا کہ میں نے ایک خطبہ میں ہوشیار کیا تھا مگر افسوس کہ اس سے فائدہ نہ اٹھایا گیا ۔ دیکھو خدا تعالیٰ سب کا رب ہے کیونکہ رب الفلق ہے اس نے ہر ایک چیز پیدا کی ہوتی ہے۔ اس لیے جب تک اسی سے ہر ایک چیز کے شر سے بچنے کی التجانہ کی جائے اور وہی انکے شہر کو نہ روک دے اور کوئی صورت محفوظ رہنے کی نہیں ہے ۔ جے توں اسدا ہور میں تاں سب جگ تیرا ہو" یعنی اگر تو خدا کا ہو جائے تو تمام دنیا تیری ہی خادم ہو جائیگی پس اگر انسان خدا کے لیے ہو جائے اور خدا اس کا ہو جاتے تو پھر تمام مخلوق اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ دنیا میں بادشاہ سے جس کا تعلق ہو اور حکمران جس پر مہربان ہو لوگ اس کی خوشامدیں کرتے اور اسے نقصان پہنچانے سے ڈرتے ہیں۔ پھر کیا اگر خدا ہمارا ہو جائے تو کوئی آفت ہمارا کچھ بگاڑ سکتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ پس اگر اور لوگ بلاؤں اور آفتوں سے ہلاک ہوتے ہیں۔ تو انھیں ہونا چاہیئے۔ کیونکہ ان کو ان بلاؤں سے بچنے کا علم نہیں ہے۔ لیکن تم پر اگر مصیبت آتی ہے ۔ تم اگر آفتوں میں پڑتے ہو تو یہ بات قابلِ تعجب ہے۔ کیونکہ تمہیں ان سے بچنے کا طریق بتایا گیا ہے۔ کچھ مصائب اور ابتلاء تو ترقی کے لیے ہوتے ہیں۔ جن سے گذرنا تمہارے لیے ضروری ہے۔ مگر الہی سلسلوں کے لیے وبائیں نہیں ہوتیں۔ جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا کہ طاعون احمدیوں میں وبار کے طور پر نہیں آئیگی لیے مختلف شکلوں میں فرداً فردا تکلیفیں آتی ہیں۔ مگر ایسی مصیبت جو تباہ کن ہو خدا کی پیاری جماعت کو نہیں آیا کرتی چونکہ تم خدا کی رہ میں قدم مار رہے ہو اور اس کے دین کی اعانت کر رہے ہو۔ اس لیے تم بہت خیال کرو کہ تم لے لیں اور بے کس ہو۔ اگر تمہارے ساتھ خدا ہے تو کوئی چیز تمہیں گزند نیں پہنچا سکتی مگر اپنی حالت کو درست کردر تمہیں سامانوں سے منع نہیں کیا جاتا ۔ بلکہ اس سے روکا جاتا ہے کہ با لکل سامانوں پر ہی نہ ریور جب مصائب عام ہوں تو ان کے دُور ہونے کے لیے دعائیں بھی عام ہی ہوتی ہیں۔ ہاں ایسے وقت میں ہو شیار سب کو کر دیا جاتا ہے ۔ اور ہلاکتوں سے وہی بچائے جاتے ہیں جو ہوشیار ہو جاتے ہیں پس اس وقت ہر ایک کو تبدیلی کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھ کر بھی مایوس نہیں ہونا چاہتے ه کشتی نوح