خطبات محمود (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 580

خطبات محمود (جلد 6) — Page 169

33 か انعام الہی کے دروازے بند نہ کرو ) فرموده ۷ مارچ شته ) ( حضور نے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ہر ایک مسلمان جو عاقل و بالغ ہو اس پر خداتعالی کی طر سے پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں اور خدا کے رسول کی سنت اور اس کی ہدایت کی اتباع میں ان پانچ نمازوں میں کچھ اور نوافل بھی ہیں جو سنتیں کہلاتی ہیں ان نوافل مسنونہ کے سوا مؤمن شوق سے کچھ اور بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے کے لیے پڑھتا ہے جو عام طور پر نوافل کہلاتے ہیں اور خاص خاص اوقات کے لحاظ سے تجد- اشراق ضحی کہلاتے ہیں ان تمام فرائض میں واجبات میں سنن ہیں ۔ نوافل میں ہر ایک رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھی جاتی ہے جس میں انسان اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرکے کہتا ہے اھدنا الصراط المستقیم کہ اے میرے رب مجھ کو سیدھے رستے پر چلا۔ یہ دُعا ہے جو کثرت سے ایک مسلمان مانگتا۔ مانگتا ہے اور ایک دو نہیں دو دفعہ نہیں تین دفعہ نہیں چار دفعہ نہیں پانچ دفعہ نہیں چھ دفعہ نہیں۔ سات دفعہ نہیں آٹھ دفعہ نہیں نبود فعہ نہیں بلکه ریباً پچاس دفعہ روزانہ مانگتا ہے۔ جو دعا ایک دفعہ مانگی جا۔ جائے وہ اثر رکھتی ہے، لیکن جو دُعا اس کثرت سے مانگی جاتی ہے اس کا اثر بہت ہی ہونا چاہیتے۔ گئی انسان ایسے ہوتے ہیں کہ جس رستہ پر وہ ایک دفعہ چلیں وہ ان کو فراموش نہیں ہوتا لیکن ایسے لوگ بھی بہت ہوتے ہیں، جو ایک رستہ پر دو تین دفعہ چلیں تو ان کو وہ نہیں بھولتا۔ مگر جو لوگ ایک دن میں ایک رستہ پر پچاس دفعہ کے قریب چلیں وہ تو اس رستہ کو کسی طرح بھی نہیں بھول سکتے ۔ کوئی شخص نہیں ہوتا جو اپنے گھر کا رستہ بھول جاتے۔ کیونکہ گھر میں کئی دفعہ اس کو آنا پڑتا ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اپنے گھر میں ایک آدھ دفعہ ہی آنا پڑتا ہے۔ مثلاً صبح گئے شام کو آگئے اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ دنوں گھر سے نہیں نکلتے ۔ اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو دو چار دفعہ آتے جاتے ہیں، اور اگر کوئی زیادہ سے زیادہ گھر میں آنے جانے والوں پر غور کریگا تو اُس کو معلوم